حجاب پر طالبان کا فرمان خواتین کو تعلیم اور کام سے الگ کردیگا : ملالہ

   

لندن : نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے عالمی قائدین پر زور دیا ہیکہ وہ افغانستان میں لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی پامالیوں کیلئے طالبان کو جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر اجتماعی اقدامات کریں۔سب سے کم عمر میں نوبل انعام سے سرفراز ہونے والی خواتین کے حقوق کی علمبردار ملالہ نے طالبان کی جانب سے افغانستان میں خواتین کیلئے حجاب کو لازمی قرار دینے کے حکم کے بعد افغان خواتین اور لڑکیوں کے تئیں خوف کا اظہار کیا ہے۔چند روز قبل ہی طالبان نے اپنے ایک نئے فرمان کے تحت افغانستان میں تمام خواتین کیلئے عوامی مقامات پر برقعہ پہننا لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم ملک کے بڑے شہروں میں بیشتر خواتین اس فیصلے سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔نوبل انعام یافتہ ملالہ نے اس حوالے سے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہاکہ طالبان چاہتے ہیں کہ وہ افغان لڑکیوں اور خواتین کو عوامی زندگی سے پوری طرح سے مٹا کر رکھ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لڑکیوں کو اسکول سے باہر رکھنا اور خواتین کو کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں خاندان کے کسی مرد کے بغیر سفر کرنے کی اجازت سے محروم کر دیا جائے اور وہ خواتین کو مکمل طور پر اپنے چہرے اور جسم ڈھانپنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔