مدینہ منورہ میں روضۂ رسولؐ کی زیارت‘ ایمان پر خاتمہ کی ضمانت،مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 9مئی (راست)مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی القادری نے کہا کہ حجاج کرام ‘حج کے دوران اپنے اوقات اور دل کی کیفیات کی بھی حفاظت کریں۔ مکہ اور مدینہ جانے کے بعد وہاں کی فلک بوس عمارتوں اور ساز و سامان کو دیکھ کر مرعوب نہ ہو۔ بلکہ ہر وقت اپنی توجہات کا مرکز اللہ اور حضور اکرمؐ کی ذات اقدس کو بنائے۔ اللہ اور رسول رحمتؐ کی سوچ و فکر میں ہی اپنے شب و روز بسر کریں۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ بیت اللہ میں حج کے دوران کعبہ اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کی دعائیں اور قربانی یہ سب دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے۔ آپؐ ہی وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے امت کو عبادات کے آداب، طریقے اور ان کی روح سے آگاہ فرمایا۔ رسول اللہ ؐ نے اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے لیے نماز کے سجدے سکھائے، دعا مانگنے کے بہترین الفاظ عطا فرمائے، روزے کی حقیقت اور اس کے تقاضے سمجھائے، اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے عبادت کے ہر پہلو کی رہنمائی فرمائی۔ اگر انسان حضور اکرم ؐ کی تعلیمات سے بہرہ مند نہ ہوتا تو نہ عبادت کا صحیح مفہوم جان پاتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ سمجھ سکتا۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ بندۂ مومن مدینہ منورہ کا سفر صرف رسول اللہؐی زیارت، محبت اور عقیدت کی نیت سے کرتا ہے۔ مدینہ طیبہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں آقا دو جہاں، رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے حسین ترین لمحات گزارے، جہاں آج بھی عاشقانِ رسولؐ اپنے دلوں کی بے قراری کا سکون پاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد، یعنی مسجد نبوی میں ایک نماز، مسجد الحرام کے سوا دوسری تمام مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ مدینہ منورہ کی حاضری وہ عظیم نعمت ہے جہاں عاشق اپنے محبوب نبیؐ کے روضۂ اقدس پر سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر مومن کے دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ وہاں کی فضا، گلیاں، مسجد نبویؐ کے مینار اور سبز گنبد عاشقانِ رسولؐ کے دلوں میں عشق و محبت کی نئی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ہر مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس شہر میں حاضر ہے جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعاوں سے بابرکت بنایا۔ وہاں قدم قدم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور بندہ اپنے آپ کو روحانی سکون کے سمندر میں ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے۔ مدینہ طیبہ مسلمانوں کے لیے اتحاد، محبت اور ادب کا درس بھی ہے۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ جب مدینہ کا سفر کیا جائے تو پوری محبت اور شوق اور والہانہ انداز میں سفر کیا جائے۔ مدینہ والوں سے بیر نہ رکھا جائے۔ مدینہ کے چپے چپے پر حضور انورؐ، صحابہ کرمؓ کے قدم مبارک پڑے ہیں۔ سردار ملائکہ حضرت جبرائیلؑ کا کئی بار وہاں نزول ہوا ہے۔ قرآن کی کئی آیات مدینہ منورہ کی گلی کوچہ میں نازل ہوئی ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ جو میری قبر کی زیادت کرتا ہے، اس پر میری شفاعت واجب ہے۔ علمائے کرم فرماتے ہیں کہ جو حج کو جاتا ہے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں مستقبل اور آخرت کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ یہ حضور اکرمؐ کی زیارت کا فیض ہے کہ خود حضورؐ نے فرمایا کہ جس نے میرے قبر کی زیادت کی، اس پر میری شفاعت واجب ہوگی۔ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ حضور اکرمؐ کی زیارت کرنے والے شخص کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ حج صرف چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایمان، محبت، اطاعت اور قربِ الٰہی کا عظیم درس ہے۔ جب ایک مسلمان احرام باندھ کر’’لبیک اللہم لبیک‘‘کی صدا بلند کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کے حضور مکمل عاجزی اور بندگی کا اعلان کرتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل ہی دراصل دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔ H/M