نئی دہلی : ایک اور مسلم مخالف اقدام منظر عام پر۔ ریاست اتر پردیش میں مصدقہ حلال مصنوعات بیچنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ مودی کے مسلسل تیسری بار برسر اقتدار آنے کے بعد مسلم مخالف اقدامات میں تیزی آ گئی ہے اور اب ریاست اترپردیش میں حلال اشیا فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ میڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی نے یوپی میں کانوڑ یاترا کے راستوں پر کھانے پینے کی دکانوں پر مالک کا نام اور شناخت لکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی حلال مصدقہ مصنوعات فروخت کرنے پر سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے اس مسلم مخالف اقدام کا جواز گھڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ یوپی حکومت نے کانوڑ یاتریوں کے ’’عقیدے کی پاکیزگی‘‘ کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل مظفر نگر پولیس انتظامیہ کی جانب سے ایسے احکامات جاری کیے گئے تھے، جس میں تمام دکانداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دکان کے مالک کا نام اور شناخت لکھیں، جس کے بعد کئی دکانوں پر ان کے نام بھی لکھے ہوئے دیکھے گئے۔ دوسری جانب کانگریس، ایس پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس کو متعصبانہ اور سماجی جرم قرار دیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیا ہے اور ریاستی حکومت سے یہ متنازعہ فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مذکورہ جماعتوں کے قائد کا کہنا ہے کہ یوگی نے باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اس معاملہ پر ردعمل بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ایس پی اور کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے شناخت ظاہر کیے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔