حلقہ کی ترقی کیلئے کانگریس حکومت کے ساتھ ہوں: سری ہری

   

Ferty9 Clinic

بی آر ایس کے دس سالہ دور میں انحراف کی حوصلہ افزائی کا الزام
حیدرآباد ۔ 22۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) اسٹیشن گھن پور کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری نے بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ شکست کے باوجود کے ٹی آر کے تکبر میں کمی نہیں آئی ہے۔ کے ٹی آر ان کے خلاف بناء سوچے سمجھے بیانات دے رہے ہیں ۔ سری ہری نے کہا کہ وہ کے ٹی آر کے والد کے سی آر سے عمر میں دو سال بڑے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے سی آر دس برس تک چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہے لیکن وہ 14 برس تک ریاستی وزیر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیشن گھن پور کی ترقی کے لئے وہ کانگریس کے ساتھ ہیں۔ سری ہری نے کے سی آر خاندان پر عوام کو لوٹنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقتدار کو صرف ایک خاندان تک محدود کردیا گیا تھا ۔ سری ہری نے بتایا کہ متحدہ ورنگل ضلع میں ان کے تائیدی امیدوار سرپنچ کے عہدہ پر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مقبولیت کے باعث ان کے تائیدی امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس حکومت سے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈس حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ سری ہری نے متفقہ طور پر سرپنچ منتخب کرنے والے گرام پنچایتوں کو فی کس دس لاکھ روپئے ترقیاتی فنڈ منظور کرنے کا تیقن دیا۔ سری ہری نے کہا کہ وہ بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے لیکن حلقہ کی ترقی کیلئے کانگریس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ دس برسوں میں دیگر پارٹیوں سے بی آر ایس میں شرکت کرنے والے ارکان اسمبلی میں کتنے ایسے ہیں جنہیں نااہل قرار دیا گیا۔ دس برسوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو دوسروں پر تنقید کا حق نہیں۔1