صنعاء ۔ 20 اکٹوبر (ایجنسیز) یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کیلئے بین الاقوامی سرگرمی کی حمایت کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے جاری جھڑپوں اور باہمی الزامات کے درمیان سامنے آئی ہے۔یمنی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق یہ درخواست رشاد العلیمی اور گوتریس کے درمیان پیر کے روز ہونے والے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کی گئی جس میں انہوں نے یمن میں صورتحال کی پیش رفت اور بین الاقوامی امن و امان پر کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔رشاد العلیمی نے سلامتی کونسل کے ذریعہ حوثی ملیشیا کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کے نافذ العمل ہونے کو یقینی بنانے، ان کے مالی وسائل کے ذرائع کو ختم کرنے اور ان کی حمایت کرنے والے اداروں اور ان پر عائد خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے کیلئے اقدام کی اپیل بھی کی۔یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں بین الاقوامی مذمت سے نکل کر بین الاقوامی فیصلوں کے مکمل نفاذ کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شہروں سے حصار ختم کرنے، عام شہریوں کیلئے محفوظ راستے اور راہداریاں کھولنے اور خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی اجازت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو سرکاری اداروں اور شہری تنصیبات پر راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعہ حوثی حملوں کے بارے میں مطلع کیا۔ انہوں نے شہروں اور دیہاتوں پر حملوں میں توسیع، تعز کا حصار برقرار رکھنے اور اس کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری سے بھی آگاہ کیا۔کونسل کے سربراہ نے اس گروہ پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی پہل کاریوں اور جنگ بندی کا فائدہ اٹھا کر اپنی صف بندی کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے اور کشیدگی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 70 سے زیادہ اقوام متحدہ کے ملازمین کی مسلسل حراست کے علاوہ ہزاروں شہریوں کو اغوا کیا گیا ہے۔
رشاد العلیمی کی درخواست بغداد میں 17 اکتوبر کو ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے دوران حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے، ان کی مالی اعانت کے ذرائع سکھانے اور ان تک ہتھیاروں اور ملٹری تجربات کی فراہمی کو روکنے کیلئے یمن کی اپیل کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسی طرح خلیج تعاون کونسل کی وزارتی کونسل نے 18 اکتوبر کو جاری کردہ اپنے بیان میں اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان پر عائد کردہ اسلحہ کی پابندی کے نفاذ کو سخت کرنے پر زور دیا تھا۔ سلامتی کونسل نے 2022 میں حوثیوں کو یمن کے بارے میں خصوصی پابندیوں کے نظام میں شامل کیا تھا اور ان پر ہتھیاروں کی پابندی کے اقدامات عائد کیے تھے۔ یمنی حکومت اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔