حکومت تلنگانہ میٹرو ریل کی خریدی کیلئے قرض کے حصول کیلئے سرگرداں

   

حیدرآباد۔22۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن سے حیدرآباد میٹرو ریل کی خریدی کے لئے قرض حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب حیدرآباد میٹرو ریل کے حصول کے لئے متبادل قرض کی راہیں تلاش کرنی شروع کرچکی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت گجرات کی GIFT سٹی سے حیدرآباد میٹرو ریل کی خریدی کے معاہدہ کو مکمل کرنے کے لئے قرض حاصل کرنے کے امور پر بھی غور کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (کیپٹل) کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے 13ہزار500 کروڑ کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران اس پراجکٹ کو سرکاری نگرانی میں لینے کے جو اقدامات کئے ہیں ان کو مکمل کرنے کے لئے انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن پر انحصار کرتے ہوئے اپنی تجاویز روانہ کی تھی لیکن کارپوریشن نے گذشتہ مئی کے دوران ہی ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ IRFC کا دائرہ کار نئے پراجکٹ کی حد تک محدود ہے اور جاری پراجکٹس کے لئے IRFC کی جانب سے فینانس کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے جہاں IRFC کے ذریعہ حیدرآباد میٹرو ریل کے پہلے مرحلہ کے لئے ازسر نو قرض کی اجرائی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی ہے وہیں اس پراجکٹ کو قرض کی فراہمی کی منظوری دیتے ہوئے کسی دیگر ادارہ سے قرض حاصل کرنے کو منظوری دے دی ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت نے متبادل ذرائع سے قرض حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (کیپٹل) کے توسط سے GIFT سٹی گجرات سے 69.کیلومیٹر پر محیط حیدرآباد میٹرو ریل کے پہلے مرحلہ کے لئے 13ہزار 500 کروڑ حاصل کرنے کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت نے اس قرض کے حصول کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا سے خصوصی اجازت حاصل کرلی ہے لیکن اب اگر یہ قرض GIFT سٹی سے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تو ایسے میں کیا مرکزی حکومت سے مزید کوئی کلیئرنس حاصل کرنا ہوگا اس بات کی وضاحت نہیں ہو پائی ہے ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر منوہر لعل کھٹر سے ملاقات کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے واقف کرواتے ہوئے میٹرو ریل کے منصوبہ اور اس کوسرکاری نگرانی میں لینے کے اقدامات سے واقف کرواچکے ہیں لیکن اس کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی اعانت نہ کئے جانے کے نتیجہ میں ریاستی حکومت قرض کے حصول کے لئے متبادل راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہے۔بتایاجاتاہے کہ مرکزی وزیر شہری ترقیات اور چیف منسٹر تلنگانہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران حکومت تلنگانہ کے نمائندوں اور عہدیداروں نے بتایا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کے پہلے مرحلہ کے حصول کا مقصد دوسرے مرحلہ میں 122.9 کیلو میٹر پر محیط میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز کرنا ہے جس کی تخمینی لاگت 38ہزار 595 کروڑ روپئے لگائی گئی ہے۔3/a/b