وعدے فراموش، میدک میں بی آر ایس کے احتجاجی پروگرام سے سابق وزیر کا خطاب
میدک۔ 10 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق ریاستی وزیر ایم ایل اے سدی پیٹ ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت گہری نیند میں سو رہی ہے اور ریاست کے کسان پریشانیوں سے شب و روز جاگ رہے ہیں۔ ہریش راؤ میدک کے نرساپور کے منڈل کلچرم پر بی آر ایس کے زیر اہتمام کسانوں کی جانب سے اپنے مسائل کو لے کر ایک روزہ احتجاجی دکشا۔ رکن اسمبلی نرساپور وی سنیتا لکشما ریڈی کی قیادت منعقد کئے تھے جس میں ہریش راؤ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے اپنے ان خیالات کے ذریعہ حکومت تلنگانہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار کے حاصل ہونے پر 100 دنوں میں 6 گیارنٹی پر عمل آوری کا وعدہ کیا تھا جس میں حکومت یکسر ناکام ہوگئی۔ صرف ایک یہ کہ خواتین کو مفت سفر کے علاوہ کچھ بھی نصیب نہیں ہوا۔ ابھی تک قرضوں کی معافی بھی مکمل نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں اناج کی خریدی مراکز قائم تو ہوئے ہیں لیکن حاصل اناج اب تک متعلقہ راشن ملز کو روانہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب میں ضلع کے تمام منڈلس میں رعتو دکشا احتجاجی پروگرام منظم کئے جائیں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ کرتی رہی۔ فی ایکڑ 5 ہزار روپے امداد رعتو بندھو، حادثات میں کسان کی موت ہوئے تو 5 لاکھ ایکس گریشا منظور کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے تمام مراعات کو روک لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی مہاراشٹرا کے چناؤ کے انتخابی مہم کے دوران جھوٹ کہتے آرہے ہیں کہ تلنگانہ میں ضمانتوں کے علاوہ 16 وعدوں پر عمل آوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی پدیاترا نلگنڈہ کے بجائے حیدرآباد سے آغاز کریں۔ اس احتجاجی پروگرام کو رکن اسمبلی نرساپور سنیتا لکشما ریڈی، ایم ایل سی سبھاش ریڈی، صدر ضلع بی آر ایس و سابق ایم ایل اے میدک محترمہ ایم پدما دیویندر ریڈی نے بھی مخاطب کیا۔ اس پروگرام میں بی آر ایس قائدین سابق رکن اسمبلی انڈول کرانتی کرن، ایم ایل سی ڈاکٹر یادو ریڈی، دیشیائی سرینواس، اے سرینواس، اے رمیش، چٹی دیویندر ریڈی، پرتاب ریڈی، اشوک گوڑ صدر نشین نرساپور بلدیہ، سرینواس ریڈی، میگھا مالا، منجولا کاشی ناتھ، اندرا سینا ریڈی کے علاوہ دیگر قائدین و کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔