تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک میں بھاری اضافہ جاری ۔ راہول گاندھی کا ادعا
کوچی ۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر آج مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کی جیبوں سے زبردستی پیسے اینٹھ رہی ہے تاکہ حکومت چلائی جاسکے ۔ یہاں وومنس کالج میں سنٹ تیریسا کالج کی طالبات سے بات چیت کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ملک میں معیشت کی تباہی کیلئے حکومت کی غلط پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ راہول گاندھی کیرالا میں انتخابی مہم کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے مسائل ابھی کچھ وقت تک برقرار رہیں گے کیونکہ حکومت کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کا گہرا اثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ہاتھ میں زیادہ رقم فراہم کرنا ہی موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے لیکن حکومت اس بات کو سن نہیں رہی ہے بلکہ وہ مزید پیداوار پر زور دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں میں آنے والی اشیا کی کھپت میں اضافہ سے بحران کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے عوام کو پیسہ دیا جانا چاہئے تاکہ یہ لوگ خریداری کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے معیشت کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ معیشت پہلی ہی کمزور تھی ۔ اس کے بعد جب کورونا وباء نے اپنا اثر دکھایا تو معیشت پوری طرح سے تباہ ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ معیشت چل نہیں رہی ہے اس لئے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ یہ لوگ نئے محاصل وصول کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ یہ لوگ رقومات کے ذرائع نہیں بناپا رہے ہیں اسی لئے حکومت اب عوام کی جیبوں سے پٹرول اور ڈیزل یا پکوان گیس کے نام پر زبردستی پیسے اینٹھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو بہتر انداز سے کام کرنے کیلئے ہم آہنگی کا ماحول بہت ضروری ہے ۔ امن قائم ہونا چاہئے اور حکومت کی جانب سے ایک حکمت عملی بنائی جانی چاہئے ۔ ان ہی محاذوں پر حکومت ناکام ہوگئی ہے اور اسی وجہ سے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں۔