چیف منسٹر ریونت ریڈی پر رئیل اسٹیٹ مفادات کو ترجیح دینے کا الزام ، کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر چیف منسٹر ریونت ریڈی ایک لاکھ پچاس ہزار کروڑ روپے ضائع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر پر رئیل اسٹیٹ مفادات کو ترجیح دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تلنگانہ خشک سالی کی صورتحال سے دوچار ہے ، لیکن چیف منسٹر کو اپنے رئیل اسٹیٹ مفادات کی تکمیل کی فکر لاحق ہے۔تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ خشک سالی کے سبب کسان مسائل کا شکار ہیں، اور آبپاشی کی ضروریات کے علاوہ پینے کے پانی کی سربراہی کا بھی کوئی نظم نہیں ہے۔ ان حالات میں حکومت کو بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رئیل اسٹیٹ مفادات کو ترجیح دے رہی ہے اور موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے نام پر غریبوں کو مکانات سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے نام پر ایک لاکھ پچاس ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تلنگانہ میں خشک سالی سے زیادہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے ؟ ایک طرف فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ایسے میں کس نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کی بات کہی تھی؟حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقوں کے عوام کو پراجیکٹ کے لیے راضی کرنے کی خاطر منعقدہ عوامی سماعت پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ایسی عوامی سماعت سے کیا فائدہ جب عوام کی آواز کو دبا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سماعت میں بی آر ایس کے عوامی نمائندوں کو حصہ لینے سے روک دیا گیا اور انہیں گھروں پر محروس کرتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شہر کے عوام پینے کے پانی سے محروم ہیں اور حکومت موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کی فکر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو عوامی سماعت کے دوران مسائل پیش کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے تھی، برخلاف اس کے سبیتا اندرا ریڈی، سدھیر ریڈی، داسوجو شراون اور دیگر قائدین کو محروس رکھا گیا اور ان میں سے کئی کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی کی سنگین صورتحال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومت ڈرامہ بازی کر رہی ہے ، لیکن عوام صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں رئیل اسٹیٹ کاروبار کی فکر ہے۔ عوامی سماعت کے نام پر غریبوں کو مکانات سے بے دخل کرتے ہوئے موسیٰ ندی کے اطراف رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں خشک سالی آفاتِ سماوی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ کانگریس حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ 1