حکومت نئی برقی پالیسی اسمبلی میں متعارف کرائے گی : ڈپٹی چیف منسٹر

   

پاور پراجکٹس میں بی آر ایس کی بے قاعدگیوں سے متعلق انکوائری رپورٹ بھی پیش کرے گی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر ملوبٹی وکرامارکا نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں نئی برقی پالیسی متعارف کراتے ہوئے مباحث کی جائے گی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے پاس فینانس اور برقی کے قلمدان بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک سالہ دور حکومت میں برقی شعبہ کو مستحکم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ہیں ۔ زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی نے 200 یونٹ تک مفت برقی سربراہ کرنے کا انتخابی وعدہ کیا جس پر مارچ سے عمل آوری کاکامیابی سے آغاز ہوگیا ہے ۔ ماہ دسمبر میں ایک کروڑ صفر بلز جاری ہوں گے۔ کانگریس حکومت برقی پیداوار پر اولین ترجیح دے رہی ہے ۔ جس کے لیے تمام ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ سال 2029-30 تک 20 ہزار میگا واٹس 2035-36 تک 40 ہزار میگا واٹس گرین انرجی پیدا کرنے کی گنجائش فراہم کرنے کا نشانہ مختص کیا گیا ہے ۔ ریاست میں برقی کو استعمال کرنے کے علاوہ دیگر ریاستوں کو برقی فروخت کرنے کے معاہدے کئے جائیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارکا نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں برقی پراجکٹس کی تعمیرات میںکئی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں جسٹس مدن بی لوکور کمیشن کی جانب سے پیش کردہ انکوائری رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں سری سیلم ہائیڈرو پاور سنٹر حادثے کے ذمہ دار ڈائرکٹرس کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ بہت جلد برقی اداروں کے لیے نئے ڈائرکٹرس کا تقرر کیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ مگر عوام اس کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں ۔ مختصر مدت میں کانگریس حکومت نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ بی آر ایس ایک سال بھی اقتدار سے دور نہیں رہ پارہی ہے ۔ ریاست کے معاشی نظام کو کنگال بنانے کے بعد وعدوں پر عمل نہ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کررہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی پر تلنگانہ میں تاریکی چھاجانے کا الزام عائد کیا گیا تاہم گذشتہ ایک سال سے بلا وقفہ معیاری برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ ہر ماہ ایک ہزار کروڑ روپئے برقی سبسیڈی کے لیے مختص کئے جارہے ہیں ۔ گروہا جیوتی اسکیم سے دیہی علاقوں کے 80 فیصد عوام استفادہ کررہے ہیں ۔۔ 2