ملکارجن کھرگے کا مشورہ، بھگوان کی تصویر سے پیٹ نہیں بھرتا، تلنگانہ قائدین میں اتحاد ضروری، لال بہادر اسٹیڈیم میں کارکنوں سے صدر کانگریس کا خطاب
حیدرآباد 25 جنوری (سیاست نیوز) صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت کو خبردار کیاکہ وہ نریندر مودی اور امیت شاہ سازشوں سے ہوشیار رہیں جو حکومت کو کمزور کرنے کیلئے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ملکارجن کھرگے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لئے کمربستہ ہوجائیں اور نریندر مودی اور بی جے پی کو شکست سے دوچار کریں۔ صدر کانگریس آج لال بہادر اسٹیڈیم میں تلنگانہ کے بوتھ لیول ایجنٹس کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ ریاست کے 32 ہزار پولنگ بوتھس کے کانگریسی ایجنٹس کو اس اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ تمام اسمبلی حلقہ جات کے امیدوار اور ضلع کانگریس صدور بھی اجلاس میں شریک رہے۔ ملکارجن کھرگے نے ریونت ریڈی اور اُن کی ٹیم کو مشورہ دیا کہ اپنی کارکردگی کے ذریعہ تلنگانہ کو ملک کی دیگر ریاستوں کے لئے مثالی بنائیں۔ اُنھوں نے بوتھ سطح کے ایجنٹس اور کارکنوں سے لوک سبھا انتخابات کے لئے محنت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ محنت کے ذریعہ ہی اسمبلی کی طرح لوک سبھا چناؤ میں شاندار نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ملکارجن کھرگے نے مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ملک بھر میں مودی گیارنٹی نام سے تشہیر کی جارہی ہے۔ مودی نے سابق میں 2 کروڑ افراد کو روزگار اور کالے دھن کی واپسی کے ذریعہ ہر شخص کو 15 لاکھ روپئے دینے کی گیارنٹی دی تھی جو آج تک پوری نہیں ہوئی۔ کھرگے نے کہاکہ وہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں حکومت سے سوالات کریں گے۔ صدر کانگریس نے کہاکہ عوام کو بھگوان کی فوٹو دکھانے سے پیٹ نہیں بھرے گا۔ پیٹ بھرنے کے لئے روزگار ضروری ہے۔ ملک میں نوجوانوں کو روزگار نہیں اور عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔ جب کبھی ملک پر کوئی مصیبت آتی ہے تو نریندر مودی پاکستان اور چین تو کبھی بھگوان کا نام لے کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مودی کے جال میں ہرگز نہ پھنسیں ورنہ جمہوریت اور دستور کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے کہاکہ مہنگائی، بیروزگاری اور عوامی رقومات کی لوٹ جیسے مسائل پر راہول گاندھی نے نیائے یاترا کا منی پور سے آغاز کیا ہے۔ ملک کے عوام کی تائید راہول گاندھی کے ساتھ ہے اور وہ پوری ہمت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ کھرگے نے کہاکہ کارکنوں کی محنت اور قائدین کے اتحاد سے تلنگانہ میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ بہتر نتیجے کیلئے آپ کی محنت ضروری ہے۔ اسمبلی کی طرح لوک سبھا چناؤ میں بھی بہتر نتائج کی کانگریس کو توقع ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نریندر مودی اور امیت شاہ اپوزیشن حکومتوں کو کمزور کرنے کی سازش کرتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں حال ہی میں کانگریس کے ایک قائد کو ارکان اسمبلی کو توڑنے کی ترغیب دی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں اس طرح کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی اور سابق میں جو کچھ ہوگیا اُسے اب دوہرایا نہیں جاسکتا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، انکم ٹیکس اور سی بی آئی کا خوف دلاکر ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو دھمکایا جارہا ہے۔ ایسی سازشوں سے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس قائدین کو چوکس رہنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ عوام ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں کیوں کہ جدوجہد کرنا اُن کا شعار ہے۔ سونیا گاندھی کے آشیرواد سے تلنگانہ حاصل ہوا ہے اور کانگریس سے غداری کرنے والا ہر شخص ایک دن ضرور ہارتا ہے۔ کے سی آر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر کانگریس نے کہاکہ کے سی آر نے کبھی بھی بی جے پی کو ٹارگٹ نہیں کیا بلکہ کانگریس پر حملہ کرتے رہے۔ کانگریس نے بی جے پی اور بی آر ایس کو شکست دے کر تلنگانہ میں حکومت تشکیل دی ہے۔ اُنھوں نے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ دیہاتوں کی سطح پر دن رات محنت کریں اور سخت محنت اور جدوجہد سے کامیابی ممکن ہے۔ اُنھوں نے بوتھ اور ولیج سطح کے کارکنوں کو لوک سبھا چناؤ کے لئے اپنی طاقت جھونک دینے کا مشورہ دیا۔ 2023 ء میں آپ نے ایک لڑائی جیتی ہے اور 2024 ء میں جنگ میں کامیاب ہونا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں مودی حکومت نے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو کمزور کردیا ہے۔ رام مندر کے افتتاح کے موقع پر مودی کی تشہیری مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے کہاکہ عوامی رقومات پر مودی کی تشہیر کی گئی۔ اُنھوں نے ملک میں انڈیا اتحاد کی کامیابی کی پیش قیاسی کی اور کہاکہ 28 پارٹیاں متحدہ طور پر مقابلہ کررہی ہیں اور نریندر مودی کو سبق سکھایا جائے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے بھی خطاب کیا۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری تنظیمی اُمور کے سی وینو گوپال اور تلنگانہ انچارج دیپا داس منشی، ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور سینئر قائدین نے اجلاس میں شرکت کی۔ 1