خدمات صفر ایمپلائز اور پنشنرس سے پریمیم کے نام پر 100 کروڑ ہڑپنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ایم ایل سی ڈاکٹر داسوجو شراون نے ریاست کے 14 لاکھ ملازمین ، اساتذہ اور پنشنرس کے لیے شروع کی گئی ایمپلائز ہیلت اسکیم (EHS) تعطل کا شکار ہوجانے پر ریونت ریڈی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کو حکومت کی بدترین انتظامی نا اہلی اور کارپوریٹ مافیا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی 15 جولائی کی ڈیڈ لائن بالکل فلاپ ہوچکی ہے اور خدمات شروع کئے بغیر کروڑوں روپئے کا پریمیم ہڑپ لینا دن دھاڑے ڈکیتی ہے ۔ داسوجو شراون نے کہا کہ ہاسپٹلس کی اسوسی ایشن کے ساتھ پیاکیج کی شرح طئے کئے بغیر ہی 15 جولائی سے اسکیم نافذ ہوجانے کا اعلان کیا گیا ۔ بغیر ہوم ورک کے اس اعلان نے حکومت کی نا تجربہ کاری کو بے نقاب کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹلس سے گرین سگنل ملے بغیر ہی حکومت نے ملازمین کی مئی اور جون کی تنخواہوں سے 1.5 فیصد پریمیم تقریباً 100 کروڑ روپئے حاصل کرلیے گئے لیکن بدلے میں سرویس ’ صفر ‘ ہے ۔ داسوجو شراون نے کہا کہ کانگریس حکومت اپوزیشن کو دبانے گندی سیاست کرنے میں مصروف ہیں ۔ اگر اس کا آدھا وقت بھی اس اسکیم پر لگایا جاتا تو لاکھوں خاندان کارپوریٹ ہاسپٹلس کے رحم و کرم پر نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس نے اپنی سماجی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر صرف منافع خوری کے لیے ملازمین کی جانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔۔ 2/a/b