حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے معاشی ترقی کمزور ہوئی:کانگریس

   

پچھلے دس سالوں میں کھپت کی کہانی ’ریورس سوئنگ‘ میں رہی، ملک کی معیشت سے متعلق پارٹی جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا بیان

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے ، بڑے پیمانے پر کھپت جمود کا شکار ہے ، مینوفیکچرنگ سیکٹر کی رفتار سست پڑ گئی ہے جس کی وجہ سے معیشت مسلسل گر رہی ہے اور ترقی کی رفتار بھی حکومت کے اندازے سے بھی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے لیکن حکومت حالات کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے ۔ملک کی معیشت کے حوالے سے آج یہاں جاری ایک بیان میں کانگریس نے کہا کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جو کہ چار سالوں میں سب سے کم سطح ہے ۔ مالی سال 2024 میں جی ڈی پی میں 8.2 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ اس نے ریزرو بینک کا 6.6 فیصد کا اضافہ درج کیا جو حکومت کے 7.2 فیصد سے بھی کم ہے ۔ ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے مینوفیکچرنگ سیکٹر اس طرح سے بڑھ نہیں کر پار ہے جس طرح سے اسے بڑھنا چاہیے ۔پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں کھپت کی کہانی ریورس سوئنگ میں رہی ہے جو معیشت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری ہے ۔ اس سال کی دوسری سہ ماہی کے اعداد و شمار میں، نجی حتمی کھپت کے اخراجات – پی ایف سی ای کی نمو پچھلی سہ ماہی میں 7.4 فیصد سے کم ہوکر 6 فیصد رہ گئی۔ کاروں کی فروخت چار سال کی نچلی سطح پر آگئی ہے ۔ اسی طرح سست نجی سرمایہ کاری دھیمی ہوکر 6.4 فیصد ہو جائے گی، جو گزشتہ سال 9 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار خانگی شعبے کی سرمایہ کاری میں تذبذب کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نئی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنے میں خانگی شعبے کے تذبذب کا مطلب یہ ہے کہ ہماری درمیانی مدت کی گروتھ متاثر ہوتی رہے گی۔انہوں نے کم ہوتی گھریلو بچت کے تعلق سے مرکزی حکومت کے اعداد و شمار پر کہا کہ 2020-2021 اور 2022-2023 کے درمیان، گھرانوں کی خالص مالی بچت میں 9 لاکھ کروڑ روپے کی کمی آئی ہے ۔ اس دوران گھریلو مالی واجبات اب جی ڈی پی کے 6.4 فیصد ہیں کووڈ -19 وبا کے دور کی پالیسی کی ناکامیاں ملک کے خاندانوں کو پریشان کر رہی ہیں۔
کشمیر ٹرین سرویس:کٹرہ ۔ بانہال سیکشن پر فُل اسپیڈ ٹرائل
جموں: اودھم پور۔ سری نگر۔ بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) پروجیکٹ کے کٹرا- بانہال سیکشن پر بدھ کے روز حتمی فُل سپیڈ ٹرائل انجام دی گئی۔یہ ٹرائل کمشنر آف ریلوے سیفٹی (شمالی سرکل) دنیش چند دیشوال کے حتمی معائنے کے طور پر انجام دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ کٹرہ ریلو اسٹیشن سے بدھ کے ساڑھے گیارہ بجے بانہال کے لئے ٹرین روانہ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین دن کے ایک بجے بانہال پہنچی۔بتادیں کہ ہندوستانی ریلوے جلد ہی سری نگر سے کٹرہ تک وندے بھارت ایکسپریس ٹرین شروع کرے گا جس کا راستہ تقریباً 100 کلومیٹر کا ہو گا اور اس کو طے کرنے میں تقریباً 2 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز نئے جموں ریلوے ڈویژن کا ورچوئل موڈ سے افتتاح کیا۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اودھم پور- سری نگر- بارہمولہ ریلوے لنک (یو ایس بی آر ایل) پروجیکٹ ایک تاریخی کامیابی ہے جو ہندوستان کی انجینئرنگ کی مہارت کا مظہر ہے ۔ادھر شمالی ریلوے نے اس روٹ کے لیے ٹرین کے اوقات کا اعلان کیا ہے ۔