الیکشن کمشنر کی تقرری سی بی آئی چیف کی طرز پر کی جائے، سپریم کورٹ کی ہدایت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ اقتدار کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے کمزور شخص کو الیکشن کمشنر کے طور پر مقرر نہیں کیا جا سکتا اور جمہوریت کی بنیاد بنانے والے الیکشن کے انعقاد میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیلٹ‘ بندوق سے زیادہ طاقتور ہے اور اگر انتخابات آزادانہ اور منصفانہ انداز میں منعقد ہوں تو جمہوریت عام آدمی کے ہاتھوں ایک پرامن انقلاب کی سہولت فراہم کرتی ہے۔جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ آزادی کے گھوڑے پر سوار ہو کر، یہ غیر منصفانہ طریقے سے بھی کام نہیں کر سکتا۔ بلکہ آزادی کا تعلق اس سوال سے ہونا چاہیے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ ایسا شخص جو اختیارات اور اقتدار کے سامنے کمزور ہو اسے الیکشن کمشنر نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی شخص اس کے آگے خود کو مقروض محسوس کرے جس نے اسے مقرر کیا وہ قوم کو ناکام بناتا ہے۔ ایک آزاد شخص متعصب نہیں ہو سکتا۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور الیکشن کمشنر (ای سی) کی تقرری پر اہم فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کی تقرری سی بی آئی چیف کی طرز پر کی جائے۔عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل کیا جائے۔ یہ کمیٹی صدر کو ایک نام تجویز کرے اور صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیا جائے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر کمیٹی میں لوک سبھا میں اپوزیشن کا کوئی لیڈر نہیں ہے تو سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سنایا ہے، جن میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے کالجیم جیسا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔یہ فیصلہ جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس اجے رستوگی، جسٹس انیرودھا بوس، جسٹس ہرشیکیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی 5 ججوں کی بنچ نے سنایا۔ بنچ نے گزشتہ سال 24 نومبر کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔