حکومت ہند کے دباؤ کے نتیجہ میں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور

   

وزارت داخلہ سے نوٹس کے بعد اقدام، فرانسیسی صحافی ونیسا ڈوگناک کا بہ دیدۂ نم بیان
حیدرآباد۔18فروری(سیاست نیوز) حکومت ہند کے دباؤ کے نتیجہ میں مجھے ہندستان چھوڑنا پڑرہا ہے اور 25 سال قبل جسے میں نے اپنے وطن کے طور پر اختیار کیا تھا اور یہاں طالب علم کی حیثیت سے دو سال گذارنے کے بعد 23 سال سے اسی ملک میں قیام کرتے ہوئے صحافتی خدمات انجام دے رہی تھی آج بدیدۂ نم اس ملک کو چھوڑ رہی ہوں۔ اس ملک میں شادی اور بچے کی پرورش کے بعد آج مجھے اس ملک کو چھوڑنا پڑرہا ہے۔ فرانسیسی صحافی ونیسا ڈوگناک نے گذشتہ دنوں ہندستان سے واپسی کے دوران یہ تحریر چھوڑی ہے جو کہ گذشتہ 23 برس سے ہندستان میں طویل مدت تک بیرونی صحافی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی خاتون صحافی ہیں ۔ ونیسا ڈوگناک نے ہندستان کو اپنے وطن کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھااور یہیں کی ہوکر رہ گئی تھیں۔ انہو ںنے اپنے 23سالہ صحافتی سفر کے دوران دیہی عوام کے مسائل کے علاوہ ماؤنواز سرگرمیوں سے متاثرہ علاقوں کے مسائل ودیگر امور پر کئی کالمس بین الاقوامی اخبارات و رسائل میں تحریر کئے ہیں ۔ 18 ماہ قبل ونیسا ڈوگناک کو وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نوٹس روانہ کرتے ہوئے ان کے ہندستان میں قیام اور صحافتی خدمات کو چیالنج کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا اور ان کی صحافتی خدمات کے اختیارات کو سلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ونیسا ڈوگناک کی صحافتی خدمات کے سلسلہ میں 26جنوری کو وزیر اعظم فرانس امینیول میکرون کے دورہ دہلی کے موقع پر بھی مسئلہ اٹھایا گیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے حکومت فرانس کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ یہ معاملہ داخلی نوعیت کا ہے اسی لئے قوانین کی رو سے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر وزیر اعظم فرانس کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے بعد ڈوگناک کو حکومت کی جانب سے ایک اور نوٹس دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ان کے مضامین جو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اداروں میں شائع ہورہے ہیں وہ ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں اور عالمی سطح پر ہندستان کی شبیہ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں اسی لئے کیوں نہ انہیں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بیرونی ہندستانی شہری کے موقف سے دستبرداری اختیار کرلی جائے! حکومت کی جانب سے یہ نوٹس موصول ہونے کے بعد ممتاز صحافی ونیسا ڈوگناک نے ہندستان میں دو دہائیوں سے جاری اپنے صحافتی سفر کے قیام کو ترک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعہ کی شب ہندستان چھوڑدیا ہے۔ ونیسا کے ہندستان چھوڑنے پر عالمی صحافتی اداروں و تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل ظاہرکیا جا رہاہے اور اس سلسلہ میں سی پی جے (کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس ) نے بھی اس سلسلہ میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے حکومت ہند سے ونیسا ڈوگناک معاملہ میں از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا۔3