حیدرآباد: فیضان احمد کے قتل کا شبہ، فیضان پستول نہیں رکھتا تھا۔ افرادخاندان

,

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد: چند دن قبل پیش آئے ایجوکیشنل کنسلٹنٹ فیضان احمد کی خودکشی کے معاملہ میں تحقیقات جاری ہے۔ متوفی کے گھر والوں نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ خودکشی نہیں ہے۔ اور ان کی بیوی نے بھی شبہ ظاہرکیا کہ ان کے شوہر نے خودکشی نہیں کی بلکہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔ افراد خاندان نے مزید بتایا کہ فیضان اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ تین کروڑ روپے کے بزنس کے سلسلہ میں معاملہ کرنے جارہے ہیں او روہ بہت جلد واپس ہوں گے۔ پولیس کو فیضان کے فون کالس سے پتہ چلا کہ وہ اپنے دوستوں سے فون سر مسلسل رابطہ میں تھے۔ پولیس نے ان کے دوستوں سے بھی پوچھ تاچھ کی۔

اس کے دوستوں نے بتایا کہ فیضان نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بہت سارے مسائل میں الجھاہوا ہے۔ پولیس نے بھی مقام حادثہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ فیضان احمد کار میں اکیلا تھا۔ ڈی سی پی مادھا پور زون اے وینکٹیشور راؤ نے یہ بات کہی۔

پولیس نے متوفی کی کار سے آلہ قتل 9mmپستول ضبط کرلیا۔ اس پستول کو فارنسک لیباریٹری میں معائنہ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کو اس رپورٹ کا انتظار ہے۔ واضح رہے کہ فیضان احمد نے نارسنگی ہائے وے پر مرسڈیز کار میں خود کو گولی مار کرہلاک کرلیا ہے۔ افراد خاندان کو شبہ ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔