حیدرآباد میں بی جے پی عاملہ اجلاس

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی کی جانب سے حیدرآباد میں قومی عاملہ کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں اپنے وجود کو استحکام بخشنے کے مقصد سے یہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے اور بی جے پی کے تمام بڑے قائدین بشمول وزیر اعظم نریندر مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا بھی اجلاس میں شریک ہونگے ۔ اس کے علاوہ ملک کی اٹھارہ ریاستوں کے بی جے پی چیف منسٹرس بھی اجلاس کیلئے حیدرآباد آنے والے ہیں۔ بی جے پی کا یہ اجلاس سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے اہمیت کا حامل کہا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی تلنگانہ میں اقتدار کی دعویداری پیش کر رہی ہے حالانکہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اسے صرف ایک اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ بی جے پی دو ضمنی انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کو تین تک پہونچ سکی ہے اس کے باوجود وہ ریاست میں اقتدار کی دعویداری پیش کر رہی ہے اور اسی اعتبار سے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی جا رہی ہے ۔ مختلف قوی قائدین اور مرکزی وزراء کے تلنگانہ کو مسلسل دورے ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی ریاست پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے 47 کارپوریٹرس سے دہلی میں ملاقات کی تھی اور تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی کا دور ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔ امیت شاہ بھی وقفہ وقفہ سے بی جے پی قائدین سے رابطے کرتے ہوئے حکمت عملی کی تیاری میں مدد کر رہے ہیں۔ پارٹی صدر جے پی نڈا کے دورے بھی بارہا ہو رہے ہیں اور بی جے پی حالات کا استحصال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے ۔ بی جے پی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ذرا سی جارحانہ کوشش اسے تلنگانہ میں اقتدار دلا سکتی ہے ۔ اسے گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں چار پارلیمانی حلقوں سے کامیابی حاصل ہوئے تھی اور اس کے بعد سے بی جے پی کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ بنیادی سطح تک منصوبہ بندی کرتے ہوئے کام کیا جا رہا ہے اور بوتھ سطح پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ بی جے پی قومی عاملہ کا اجلاس حیدرآباد میں منعقد کرنا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔
تلنگانہ راشٹرا سمیتی اور بی جے پی کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال میں یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ بی جے پی ریاستی یونٹ کے قائدین اس موقع سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ وزیر اعظم کا روڈ شو بھی منعقد کرنا چاہتے ہیں اور مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں کو ریاست کے کئی اضلاع کا دورہ بھی کروانے کے منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ اندیشے بھی کچھ گوشوں کی جانب سے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ حیدرآباد میں قیام کے دوران کچھ چیف منسٹرس یا مرکزی قائدین کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی بھی کی جاسکتی ہے اور حالات کو بگاڑنے کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی کی حکمت عملی ہمیشہ ہی فرقہ وارانہ منافرت بھڑکاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی رہی ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں یہ حکمت عملی کامیاب بھی رہی ہے اور کچھ ریاستوں میں اسے مسترد بھی کیا جاچکا ہے تاہم بی جے پی کیلئے یہ ایک آزمودہ ہتھیار ہے اور وہ تلنگانہ میں بھی اسی کواختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ریاستی قائدین کی جانب سے ویسے بھی اشتعال انگیز بیان دئے جا رہے ہیں اور حالات کا استحصال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ اس سیاسی صورتحال میں قومی عاملہ کا حیدرآباد میں اجلاس منعقد کرنا اہمیت کا حامل ہوگا اور اس سے بی جے پی کس حد تک فائدہ اٹھا پائے گی یا ٹی آر ایس کو کس حد تک کمزور کیا جاسکے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم بی جے پی اپنی کوشش ضرور کرے گی ۔
جہاں تک تلنگانہ کی سیاسی صورتحال کی بات ہے تو بی جے پی خود کو حالانکہ ٹی آر ایس کا سیاسی متبادل ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ حقیقت سے دور تاثر ہے ۔ بی جے پی تین ارکان اسمبلی کے ساتھ اقتدار کی دعویدار نہیں بن سکتی ۔ ریاست کا جو ماحول وہ وقتی طور پر بی جے پی کو سازگار دکھائی دے رہا ہے لیکن بحثییت مجموعی بی جے پی کیلئے راستہ آسان نہیں رہے گا اور اقتدار تک پہونچنا اس کیلئے اب بھی ’’ ہنوز ‘ دلی دور است ‘‘ والی بات ہے ۔ بی جے پی کے منصوبوں کے دوران حالات کو بگڑنے سے بچانے کیلئے چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے نہ پائے ۔