حیدرآباد میں عوامی ٹائیلٹس کی اسکیم بری طرح ناکام پانی کی عدم سربراہی، گندگی میں اضافہ

   

حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کھلے مقامات پر حوائج ضروریہ کو روکنے اور شہر کو پاک و صاف رکھنے کیلئے عوامی ٹائیلٹس قائم کئے گئے تھے لیکن یہ تجربہ بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ کئی مقامات پر چھوٹے ڈبوں کی طرح ٹائیلٹس تیار کئے گئے جن میں پانی کی سربراہی کا کوئی نظم نہیں ہے جس کے نتیجہ میں یہ ٹائیلٹس صفائی کے بجائے گندگی کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی ٹائیلٹس پر ماہانہ 2 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن پانی کی عدم سربراہی کے سبب کوئی بھی ذی شعور شخص ٹائیلٹس کا استعمال کرنے تیار نہیں ہے۔ جس ایجنسی کو ٹائیلٹس کی تعمیر اور مینٹننس کا کام دیا گیا ہے وہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ سوچھ بھارت کے تحت موبائیل ٹائیلٹس کی اسکیم کا اعلان کیا گیا لیکن یہ اسکیم بھی کامیاب نہیں رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ علاقہ کے اعتبار سے مینٹننس کے اخراجات ادا کئے جارہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کو چاہیئے کہ وہ عوامی ٹائیلٹس میں پانی اور صفائی کے انتظامات کریں تاکہ عوام کھلے مقامات پر حوائج ضروریہ سے بچ جائیں۔ر