اسرائیل کی بربریت کے خلاف پرامن احتجاج، پولیس سے رکاوٹ، متعدد جہد کار گرفتار، پولیس کے رویہ پر تنقید
حیدرآباد۔13جنوری (سیاست نیوز) غزہ پٹی میں جاری اسرائیلی بربریت کے خلاف عالمی احتجاجی اعلان کے پیش نظر حیدرآباد میںبھی انڈین پیپول ان سالاڈیٹی ویتھ فلسطین‘ نوجوان بھارت سبھا اور دیشا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت متعدد سماجی ‘ سماجی اور طلبہ تنظیموں نے ٹینک بنڈ پر واقع مجسمہ مخدوم محی الدین کے پاس ایک انسانی زنجیر کے ذریعہ پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ خواتین اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے اس احتجاجی مظاہرہ میںشرکت کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہاریگانگت کیا۔ابتداء میںپولیس نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے مجسمہ مخدوم محی الدین کے پاس مظاہرین کوجمع ہونے سے روک دیا ۔پولیس کا کہنا تھا کہ اجازت کے بغیراس طرح کا احتجاج غیر قانونی ہوگا اور پولیس ایسی کسی بھی سرگرمی کو اجازت نہیںدیگی۔ مگر پولیس کے رویہ سے ناراض سماجی جہدکاروں او ر سیاسی قائدین بدستور نعرے بازی جاری رکھے ہوئے تھے ۔ پولیس نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پلے کارڈس دیکھنے اور نعرے لگانے والوں کوگرفتار کرلیاجن میںسی پی آئی قائدین وی ایس بوس ‘ ایم کے اسٹالن اور اسٹوڈنٹس لیڈر‘ ایس ایس تنویر سمیت پندرہ لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے اس رویہ پر سماجی جہدکار سارہ ماتھیوز اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی پی او ڈبلیو کی چیر پرسن سندھیا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میںاب عامرانہ نہیں بلکہ جمہوری حکومت ہے اس کے باوجود پولیس عامرانہ رویہ اختیارکرتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس ہمیشہ سے ہی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور فلسطین کی حمایت میںہونے والے ہر احتجاج کو کانگریس کی تائید حاصل رہی مگر آج تلنگانہ میںکانگریس کی حکومت کے ہونے کے باوجود بی آر ایس او ربی جے پی حکومتوں میںجس طرح سماجی جہدکاروں کودبانے اور جمہوری احتجاجیوں کوکچلنے کی کاروائیاں کی جاتی رہی ہیں ویسا ہی کام کرنے کی دوبارہ کوشش کررہی ہے ۔انہوںنے حکومت کے ذمہ داران سے پولیس کے اس رویہ کی شکایت کا بھی انتباہ دیا۔ سندھیا نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ ملک کی عوام غزہ او رفلسطین کے ساتھ ہے او رمرکزی حکومت اسرائیل کی حمایت کررہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میںکبھی بھی ہندوستان نے اسرائیل کی حمایت نہیں کی مگر مرکز میںبرسراقتدار بی جے پی حکومت اسرائیل کی حمایت میںکھڑی ہے ۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کو ختم کرے اور غزہ میںجاری اسرائیلی بربریت کو فوری روکنے کے لئے مرکز پر دبائو ڈالے ۔بعدازاں مختلف سماجی اورفلاحی اورطلباء تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان بھی ٹینک بنڈ پہنچے اور انسانی زنجیر بناکر اسرائیلی بربریت کے خلاف نعرے لگائے ۔ پولیس کی بھاری جمعیت کی موجودگی میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی کثیر تعداد نے اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی ۔ مظاہرین میںبرقعہ پوش خواتین کی بھی بڑی تعداد تھی اور غیرمسلم برداران وطن بھی اس احتجاج میںشامل ہوکر غزہ کی مظلوم عوام سے مکمل اظہار یگانگت کیا۔ ہاتھوں میںپلے کارڈس تھامے معصوم بچے بھی غزہ کے مظلوموں کے حق میں نعرے لگائے۔