حیدرآباد میں مسروقہ کاروں کی راجستھان میں ڈرگس اسمگلرس کو فروخت

   

ایم بی اے گریجویٹ سارق ستیندر سنگھ شیخاوت کا اعتراف ۔ سٹی پولیس کی پوچھ تاچھ
حیدرآباد ۔ یکم مئی ( سیاست نیوز ) سال گذشتہ حیدرآباد سے سرقہ کی گئی کم از کم پانچ کاریں راجستھان میں پاکستانی سرحد کے قریب سرگرم خطرناک منشیات کے اسمگلرس کے ہاتھ لگ گئی ہیں۔ ایم بی اے گریجویٹ سے کار چور بنے ستیندر سنگھ شیخاوت نے سٹی پولیس سے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے یہ کاریں درمیانی آدمیوں کے ذریعہ اسمگلرس کو فروخت کی ہیں۔ حیدرآباد میں 2021 میں سرقہ کی گئی پانچ کاروں میں تین کو راجستھان پولیس نے منشیات کے کاروبار سے متعلق کیسوں میں ضبط کرلیا ۔ ایک اور کار جئے پور میں سڑک پر کھڑی پائی گئی ۔ ستیندر سنگھ شیخاوت نے یہ کاریں چینی آلات سے نقلی چابیاں بناتے ہوئے چرائی تھیں۔ حیدرآباد پولیس نے جب ستیندر سنگھ سے اس کے طریقہ کار کے تعلق سے پوچھ تاچھ کی تو یہ تفصیلات سامنے آئیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ راجستھان ۔ ہریانہ سرحد پر سرگرم ڈرگس کے کاروباری درمیانی آدمیوں کے ذریعہ چوری کی کاریں خریدتے ہیںاور انہیں منشیات کی منتقلی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اگر پولیس نے منشیات کے ساتھ گاڑی بھی ضبط کرلی تو ان کا نقصان کم ہوتا ہے ۔ جنوری تا اگسٹ 2021 شیخاوت نے یہ کاریں بنجارہ ہلز ‘ پیٹ بشیر آباد ‘ ناچارم اور ڈنڈیگل علاقوں سے سرقہ کی تھیں۔ پانچ کے منجملہ ملزم نے تین کاریں گھروں کے سامنے سے چرائی تھیں۔ ایک کار کو اسٹار ہوٹل کی پارکنگ سے جبکہ ایک کار کو سرویس اسٹیشن سے اڑا لیا گیا تھا ۔ ناچارم اور بنجارہ ہلز پولیس کی ٹیمیوں 2021 میں جئے پور گئی تھیں تاکہ شیخاوت کو گرفتار کیا جاسکے ۔ت اہم اسے گرفتار نہیں کیا جاسکا تھا ۔ فبروری 2022 میں بنگلورو پولیس نے اسے جودھپور سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد سٹی پولیس نے پوچھ تاچھ کیلئے اسے شہر منتقل کیا ۔ ملزم نے چوری کردہ کاروں کو ڈرگ اسمگلرس کو فروخت کرنے کا اعتراف کرلیا ہے ۔