حیدرآباد میں کم رائے دہی کے رجحان سے سیاسی جماعتیں فکر مند

   

50 فیصد سے اضافہ کیلئے الیکشن کمیشن کی مساعی، عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں سے عوام نالاں
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے الیکشن کمیشن نے شعور بیداری مہم کے علاوہ این جی اوز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رائے دہی کے بارے میں حیدرآباد کا مظاہرہ اکثر و بیشتر مایوس کن رہا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش اور علحدہ تلنگانہ ریاست دونوں میں ریاست کے دیگر علاقوں کے مقابلہ حیدرآباد میں رائے دہی کی فیصد ہمیشہ کم درج کیا گیا۔ اب جبکہ رائے دہی کو صرف ایک دن باقی ہے سیاسی جماعتیں بھی رائے دہی میں اضافہ کے سلسلہ میں فکر مند دکھائی دے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق حیدرآباد کے شہری ہمیشہ حق رائے دہی سے استفادہ کے معاملہ میں غیر سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں اور لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بھی حیدرآباد کا مجموعی فیصد کافی کم رہا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں ریاست کا مجموعی فیصد 65 تھا جبکہ حیدرآباد میں صرف 45 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ 2014 اسمبلی انتخابات میں تلنگانہ میں رائے دہی مجموعی طور پر 73 فیصد درج کی گئی تھی لیکن حیدرآباد میں یہ فیصد 53 رہا۔ 2016 کے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں حیرت انگیز طور پر رائے دہی 46 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایسے علاقے جو تعلیم یافتہ رائے دہندوں سے منسوب ہیں ان میں کئی مقامات پر رائے دہی بمشکل 40 فیصد رہی۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں ریاست کا مجموعی فیصد 67 رہا جبکہ حیدرآباد میں 50.8 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ حیدرآباد میں کم رائے دہی کے رجحان کو تبدیل کرتے ہوئے 50 تا60 فیصد رائے دہی یقینی بنائے جائے۔ 50 فیصد سے کم رائے دہی کا مطلب یہ ہوگا کہ عوام کی اکثریت کو انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دن رات گلی کوچوں میں قومی اور سیاسی جماعتوں کی مہم کے باوجود 50 فیصد سے کم رائے دہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے عوامی نمائندوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ عوامی نمائندہ بھلے ہی کسی پارٹی کا کیوں نہ ہو وہ انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کرتا ہے اسے کامیابی کے بعد بھلادیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کا عوامی نمائندوں کے ساتھ کوئی جذباتی رشتہ باقی نہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی کارکردگی بہتر ہوتی تو عوام رائے دہی میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتے۔ سیاسی جماعتوں کو تشویش ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی مجموعی رائے دہی 50 فیصد سے زائد نہ ہو تو پھر نتائج میں کافی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں اور معمولی ووٹوں کی بنیاد پر ہار اور جیت کا فیصلہ ہوگا۔ سابق مرکزی ہوم سکریٹری کے پدمنابھیا کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے نتیجہ میں عوام بہتر امیدوار کے انتخاب میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے قائدین کو وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں جوابدہ بنانے کی تجویز پیش کی۔