حیدرآباد کی بریانی اور ولیمہ مشہور تو کل ہند سطح پر تعلیمی ادارے مشہور کیوں نہیں

   

قوم میں تعلیمی شعور بیدار کرنے کی ضرورت،شاہی مسجد باغ عام میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 26 مئی (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے شاہی مسجد میں اپنے خطبہ میں کہا ہے کہ اب چونکہ امتحانات کے نتائج آچکے ہیں تو دسویں اور بارہویں جماعت میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی تہنیت اور ناکام طلبہ کو مثبت انداز میں تحریک فراہم کرنا ضروری ہے۔ وہیں اس بار یو پی ایس سی کے نتائج بھی آچکے ہیں، جس میں کل ہند سطح پر تیس مسلمان کامیاب ہوئے ہیں ۔ یہ تناسب بہت حوصلہ بخش نہیں ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان کا تناسب کل آبادی کا 18 سے 20 فیصد تک ہیں لیکن یو پی ایس سی میں کامیابی کا تناسب صرف دو فیصد کے آس پاس ہے، جب کہ جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا تناسب 30 فیصد سے زائد ہے۔ کیا یہ فکر مند بات نہیں ہے؟ یو پی ایس سی میں کامیاب ہونے والے تین نوجوانوں نے ممبئی کے حج ہاؤس سے ٹریننگ حاصل کی ہے۔ حیدرآباد میں واقع حج ہاؤس کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ موسم حج کے علاوہ یہاں کوئی سرگرمیاں انجام نہیں دی جاتی۔ اقلیتی طلبہ کی جانب سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے حج ہاؤس ایک بہترین مصرف ہوسکتا ہے۔ حیدرآباد کا ہندوستان بھر میں نام ہے اور یہاں مسلمانوں کا سرمایہ دار طبقہ رہتا ہے۔ حیدرآباد کے ولیمہ اور بریانی تو مشہور ہے لیکن حیدرآباد کا کوئی تعلیمی ادارہ مشہور کیوں نہیں ہے؟ قوم کے اندر تعلیم کا ذوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال مائناریٹی اسکولوں کے امید افزا ء نتائج سامنے آئے ہیں۔ دسویں جماعت کے 95 فیصد اور بارہویں کے 85.4 فیصد نتائج ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کی بھی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ مائناریٹی اسٹڈی سرکل کے نام سے جامعہ نظامیہ کامپلکس، عابڈس میں حکومتی ادارہ سرگرم ہے۔ جس کا مقصد اقلیتی طلبہ کو مسابقتی امتحانات میں تیاری کرانا ہے۔ ایک اور ادارہ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ فار مائناریٹیس (سی ای ڈی ایم) بھی ہے۔ جو کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لیے مصروف عمل ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ ہم لوگ صرف اپنی محرومیوں کا رونا رونے کے بجائے مثبت اقدام کی طرف آگے بڑھیں۔ہمیں ان سب اداروں سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ نیکی صرف یہ نہیں کہ خوب پیسے خرچ کیے جائیں بلکہ حدیث کے مطابق کسی کو راستہ بتانا بھی نیکی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ضرورت مندوں کو تعلیم و ترقی کی سمت گامزن کیا جائے۔ تعلیم کا رحجان عام کیا جائے۔ تعلیم کے ضمن میں پانچ سالہ منصوبہ بنائیں کہ اگلے پانچ سال میں تعلیم کو عام کرنا ہے اور مسلم معاشرہ کو مکمل طور پر تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ کیونکہ سب سے بڑا عیب جہالت ہے اور ہم جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبتے جارہے ہیں۔ مولانا احسن نے کہا کہ دنیا سے محبت اور موت سے کراہیت مومن کی علامت نہیں ہے بلکہ دل کو اللہ کے لیے خالص کردے۔