حیدرآباد کے بعض سرکاری اسکولس میں طلباء ’’گانجہ سگریٹ‘‘ کے غلام

   

منشیات کی لعنت کیخلاف TGNAB کی جانب سے طلباء اور والدین کی کونسلنگ

حیدرآباد۔19 فروری (سیاست نیوز) اسکولس جو بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دیا کرتے تھے، مگر بعض اسکولوں کا ایک طرف تعلیمی معیار گھٹ رہا ہے تو دوسری جانب اخلاقی اقدار بھی تار تار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب یہ پتہ چلا کہ بعض طلبہ ’’نشہ‘‘ کی خطرناک لعنت میں گرفتار ہورہے ہیں۔ چند دن قبل شیخ پیٹ منڈل کے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈماسٹر نے تلنگانہ اینٹی نارکوٹک بیورو (TGNAB) کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے اسکول میں دسویں جماعت کے کچھ طلباء کا کلاس روم میں برتاؤ مشکوک لگ رہا ہے ، وہ سوال کا جواب بھی نہیں دے پارہے ہیں، ان کی آنکھیں اکثر بند نظر آتی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ وہ ٹھیک طرح سے کھڑے بھی نہیں ہوپارہے ہیں اور ہمیشہ تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں۔ جب طلباء سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم اسکول سے گھر جاتے وقت کسی ویران جگہ پر جاکر 6 ،7 ماہ سے شراب اور سگریٹ پی رہے ہیں۔ اسکول ہیڈماسٹر نے تلنگانہ انسداد منشیات بیورو کے عہدیداروں کو خط میں مزید بتایا کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی عہدیدار آئیں گے، طلباء کے ساتھ ہم اُن کے والدین کو بھی طلب کریں گے۔ یہ ایک اسکول کا مسئلہ نہیں ہے۔ حیدرآباد کے دوسرے سرکاری اسکولوں میں بھی اس طرح کے سنگین واقعات پیش آرہے ہیں۔ یہاں تک کہ طلباء اسکول کے احاطہ میں گانجہ کا سگریٹ پیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی اینٹی نارکوٹک بیورو عہدیداروں نے فوری اسکول پہنچ کر طلباء کی کونسلنگ کی۔ منشیات کے عادی نوجوان ، طلباء کو پیسے دیتے ہوئے گانجہ منگوارہے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ بھی نشہ کے غلام بن رہے ہیں۔ حیدرآباد، سکندرآباد اور پرانے شہر میں بعض سرکاری اسکولس میں بھی اس طرح کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں جہاں پر اساتذہ طلباء کو سزا دے رہے ہیں تو چند اساتذہ کو بچوں کے والدین کو طلب کرکے انہیں خبردار کررہے ہیں اور نشہ کی حالت چھڑا کر اسکول بھیجنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ رضاکارانہ تنظیم اے پی ایس اے نے سرکاری اسکول میں منشیات کے استعمال پر ایک سروے کیا تھا ۔ تنظیم کے نمائندوں نے سرکاری اسکولس میں ایک ہزار طلباء سے بات چیت کی جس میں 80% طلباء نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بڑوں کی جانب سے عادت ڈالنے کی وجہ سے وہ ’’گانجہ سگریٹ‘‘ پی رہے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے ان اسکولی بچوں کو گانجہ فروخت کئے جانے کے مقامات بھی بتائے۔ سیتاپھل منڈی کے برج کے نیچے، لالہ پیٹ کے برج کے نیچے، سنجیوا پارک ریلوے اسٹیشن، فتح نگر برج کے نیچے ، ملک پیٹ ، چندرائن گٹہ ، نامپلی ریلوے اسٹیشن کے قریب اور دلسکھ نگر کے علاقوں میں بھی گانجے دستیاب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ہم نے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرکے محکمہ تعلیم کو پیش کردی ہے۔ ڈی ایس پی ٹی جی نیاب نرسنگ راؤ نے کہا کہ ہم سرکاری اسکولس میں منشیات کے استعمال کے خاتمہ کیلئے خاص طور پر کام کررہے ہیں۔ اس کیلئے دو طریقے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے۔ ایک طرف طلباء میں شعوربیدار کیا جارہا ہے تو دوسری جانب چھوٹی فلمیں اور ویڈیوز بناکر اس کے نقصانات بتارہے ہیں، اس کیساتھ ہی طلباء سے معلومات حاصل کرکے منشیات سربراہ کرنے والوں کو گرفتار بھی کیا جارہا ہے۔2