حیدرآباد کی تاریخ کو مسخ کرنے کی پھر ایک کوشش

   

بی جے پی سے رضاکاروں پر فلم کی تیاری، مستقبل میں مزید
فلمیں تیار کرنے کی تجویز
حیدرآباد۔7۔اگسٹ(سیاست نیوز) حیدرآباد کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لئے ’رضا کار‘ تحریک پر ایک نہیں بلکہ تین فلموں کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ملک میں تاریخ کو مسخ کرنے کے لئے فلموں کا استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل کے آگے ایسی تاریخ پیش کی جا رہی ہے جو بدگمانیاں پیدا کرنے والی ہیں۔ فلمو ں کے ذریعہ نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے تیارکی جانے والی فلموں کی تیاری دراصل سیاسی مفادات کے حصول کے لئے کی جا رہی ہے لیکن طویل مدت میں یہ فلمیں تاریخ کا ایسا ناقابل انکار حصہ بن جائیں گی جنہیں آئندہ نسلیں عدم معلومات کی بناء پر حقیقت تسلیم کرنے لگ جائیں گی۔ ملک بھر میں مختلف فلموں کی تیاری اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی ’رضاکاروں‘ پر فلم کی تیاری میں مصروف ہے ۔ریاستی بی جے پی کی جانب سے جاریہ سال کے اوائل میں رضاکاروں پر فلم کی تیاری کے اعلان کے بعد اب جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق اسی عنوان پر مزید دو فلمیں تیار کی جا رہی ہیں جن میں رضاکاروں کے منفی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں ظالم اور مخالف ہندو کے طور پر پیش کیاجائے گا۔ ذرائع کے مطابق فلمساز ایس ایس راجہ مولی کے والد رکن راجیہ سبھا وی ۔ وجیندرپرساد نے بھی رضاکاروں پر فلم کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں کافی پیشرفت کرچکے ہیں ۔ اسی طرح فلم ’کشمیر فائیلس‘ تیار کرنے والے ابھیشیک اگروال نے بھی ’’رضاکار فائیلس‘‘ کی تیاری کا آغاز کردیا ہے جبکہ ریاستی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی بنڈی سنجے نے جاریہ سال ماہ اپریل میں ہی رضا کاروں کے مظالم پر فلم کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سال کے اختتام تک فلم کی تیاری مکمل کرلی جائے گی۔ ملک میں فلموں کے ذریعہ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے پیش کرنے کی جس طرح سے کوشش کی جار ہی ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور اب آزاد ریاست دکن حیدرآباد میں رضا کاروں کے کردار پر فلم کی تیاری میں سرکردہ فلم سازوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نفرت کا ماحول تیار کرنے میں فلم ساز بھی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست دکن حیدرآباد کی تاریخ بالخصوص رضاکاروں کے کردار اور ان کی حیدرآباد کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کے دوران خدشہ ہے کہ ان تینوں فلموں کے ذریعہ مذہبی منافرت کو ہوا دیتے ہوئے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست دکن کے علاقوں کی گنگاجمنی تہذیب کو نقصان پہنچانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ رضا کاروں کے عنوان پر جو فلموں کی تیاری کے اقدامات کئے جار ہے ہیںان میں ہندی کے علاوہ تلگو اور کنڑزبانوں میں فلم کی تیاری عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔م