شہریت ترمیمی قانون
کلکتہ16فروری (سیاست ڈاٹ کام )اگلے دو دنوں میں پارک سرکس میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاج کو پچاس دن مکمل ہوجائیں گے ۔گزشتہ 46دنوں میں پارک سرکس میں احتجاج کے دوران کئی رنگ دیکھنے کو ملے ۔جہاں میدان کے ایک حصے میں گشتی لائربیری بنایا گیا تھا وہیں مختلف کارٹون اور آرٹس کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی میں تمام فرقوں کی شمولیت،ہندو مسلم اتحاد کو ظاہر کیا ہے ۔مگر اب اس میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگیا ہیا۔ایک سال قبل پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تصویر لگاکر خراج عقید پیش کیا جارہا ہے ۔اس نمائش کا مقصد یہ بتایا گیا ہے تاکہ پیغام دیا جائے کہ پلوامہ میں شہید ہونے والوں کا تعلق کوئی ایک خاص کمیونیٹی سے نہیں تھا بلکہ اس میں کئی مسلم نوجوان بھی تھے جنہوں نے ملک کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر شاہین باغ کے مظاہرین سے راستہ خالی کرنے کیلئے مذاکرات ہورہے ہیں۔پارک سرکس کے مظاہرہن کے کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا ہے اور ہم بھی اس وقت اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے جب تک حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرلیتی ہے ۔دوسری جانب گزشتہ ایک ہفتے سے مائیک کی آواز کو کم کردیا ہے کیوں کہ مغربی بنگا ل سیکنڈری بورڈ نے امتحانات کے پیش نظرآبادی کے قریب مائیک کے استعمال پر پابندی عاید کررکھا ہے ۔اس سال کلکتہ میں موسم کا مزاج گزشتہ سالوں کے مقابلے کافی اتاڑ چڑھاؤ کا رہا ہے ۔گزشتہ پچاس سال کے مقابلے اس سال زیادہ موسم سرد رہا ہے مگر گزشتہ ایک ہفتے سے موسم اچانک تبدیلی ہوگیا ہے اور گرمی میں اضافہ ہوگیا ہے۔