خاتون ملازمہ کو ہراسانی ، سرکاری عہدیدار گرفتار

   

Ferty9 Clinic

لکھنؤ۔اترپردیش میں جرائم کے بڑھتے اعداد وشمار کے بعد یوگی حکومت کے نظام اور نظم ونسق پر ہمیشہ ہی تنقید کی جاتی رہی ہے جس کے باوجود اترپردیش میں جرائم کی روک تھام میں کوئی خاطر خواہ اقدامات ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن یہاں نئے معاملات سامنے آتے ہیں اور اب ایک تازہ ترین واقعہ رونما ہوا ہے۔ لکھنؤ میں ایک انڈر سکریٹری سطح کے سرکاری عہدیدار کو جمعرات کو ایک کنٹریکٹ ملازمہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم اچھرام یادو لکھنؤ میں محکمہ اقلیتی بہبود میں سیکشن انچارج کے طور پر تعینات ہے۔ متاثرہ نے الزام لگایا کہ انڈر سیکرٹری 2018 سے اسے ہراساں اور چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس نے شکایت کی تو اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی گئی۔ حال ہی میں، اس نے ہمت کی اور یادو کا ایک ویڈیو بنایا، جس میں اسے عورت پر زبردستی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ اسے دور دھکیلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے بعد خاتون نے 29 اکتوبر کو حسین گنج پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ خاتون نے پولیس کو ثبوت کے طور پر ایسے واقعات کی متعدد ویڈیوز پیش کیں۔ اس نے الزام لگایا کہ پولیس ابتدائی طور پر یادو کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی کیونکہ وہ انڈر سکریٹری کے طور پر اپنے عہدے کے ذریعے اچھی گرفت رکھتا ہے۔ آخر کار متاثرہ نے ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (اے ڈی سی پی) سنٹرل کھیتی گرگ کے مطابق اس معاملے میں 29 اکتوبر کو ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا اور تحقیقات جاری تھی۔ انہوں نے کہاعورت کو اس کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے چند بار بلایا گیا۔ بیانات ریکارڈ کرنے اور دونوں فریقوں سے شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد کارروائی کی گئی۔