انڈیانا پولس ۔ 17 اگست (ایجنسیز) سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام امریکی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیاناپولس میں خالصتان کے قیام کے مطالبے کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شہروں اور ریاستوں سے سکھ برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق بارش کے باوجود ووٹنگ کا سلسلہ جاری رہا اور خواتین و بچوں سمیت بڑی تعداد میں افراد پولنگ کے لیے موجود رہے، ووٹنگ شام 6 بجے تک جاری رہنے اور اس کے بعد ڈالے گئے ووٹوں کی حتمی تعداد سامنے آنے کی توقع ہے۔ ریفرنڈم کے دوران خالصتان کے حق میں نعرے لگائے گئے جبکہ کشمیر کی آزادی کے حق میں بھی نعرے بلند کیے گئے۔ فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ میں تقریب میں اسٹیج سے خطاب کرنے والی واحد غیر سکھ مقرر تھی۔ خالصتان ریفرنڈم مہم سے وابستہ وکرم جیت سنگھ نے کہا کہ مہم کا آغاز 2020ء میں ہوا تھا تاہم کورونا کی وباء کے باعث سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق 31 اکتوبر 2021ء کو لندن میں پہلا ریفرنڈم ہوا جس میں ہزاروں سکھوں نے ووٹ ڈالے۔ وکرم جیت سنگھ نے بتایا کہ اس کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا، سوئٹزر لینڈ، اٹلی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں ریفرنڈم کروائے جا چکے ہیں، کینیڈا میں ٹورنٹو میں 3، وینکوور میں 2 جبکہ کیلگری میں بھی ریفرنڈم منعقد ہوا، امریکہ میں سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی کے بعد انڈیاناپولس میں ووٹنگ کروائی گئی۔ سکھ رہنما نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں اب تک تقریباً 20 لاکھ سکھ اس مہم کے تحت ووٹ ڈال چکے ہیں تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔