خاندانی اور سماجی خرافات ختنہ کے عمل میں رکاوٹ

   

23 سال سے ختنہ کیمپ جاری ۔ حیدرآبادی ڈاکٹروں کی مفت خدمات ، مولانا عبدالعلیم کوثر کا بیان

مکتھل۔ 15 مئی۔ (ذریعہ میل) مولانا محمد عبد العلیم کوثر ناظم مدرسہ فیض العلوم حسینیہ مکتھل کی اطلاع کے بموجب مدرسہ ہذا میں گزشتہ 23 سال سے فری ختنہ کا کیمپ لگایا جاتا ہے جس میں اطراف و اکناف کے ہر سال اوسطاً دیڑھ سو نو نہالوں کی ختنہ کی جاتی ہے۔ اس سال بھی تیئیسواں فری کیمپ 10 مئی بروز اتوار لگایا گیا جس میں 98 بچوں کی ختنہ کی گئی۔مولانا کوثر صاحب نے اس موقعہ پر لوگوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے بتایا کہ کم علمی اور لااُبالی پن کی وجہ سے دیہاتوں میں بچوں کی عمریں لڑکپن سے متجاوز ہونے کے باوجود سنت ابراہیمی پہ عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ختنہ کے عمل میں خاندانی اور سماجی خرافات بھی ہیں۔ جب تک بکروں کی دعوت نہ ہو اس وقت تک مسنون ختنہ کی تکمیل نہیں مانی جاتی۔ کچھ ایسی بندشیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ ختنہ جیسے شعائر اسلام پر عمل پیرا ہونے ہونے تک بڑے مقروض ہو رہے ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج سے تیئیس سال پہلے والد محترم الحاج ڈاکٹر شیخ چاند مرحوم کی سر پرستی میں اس نیک کام کی ابتدا اپنے برادر خورد ڈاکٹر کلیم ظفر کے ساتھ مل کر کی۔اس موقعہ پر میں اُن تمام ڈاکٹر کا بطور خاص ڈاکٹر افضل ، ڈاکٹر کریم، ڈاکٹر یونس، ڈاکٹر شایان خان ، ڈاکٹر شاکر، ڈاکٹر ہادی ، ڈاکٹر جلال اور ڈاکٹر نوید کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اپنی مصروفیات کے باوجود ابتدائی ایام سے ہی اپنی فری خدمات شہر حیدرآباد سے آکر اس دور افتادہ مقام مکتھل پر دے رہے ہیں۔اس فری ختنہ کیمپ کے موقع پر مدرسہ کے اساتذہ ،طلباء و حیدرآباد سے تشریف لائے دیگر احباب نے معاونت کی ۔