خانگی مذہبی ادارہ کو ازدواجی حیثیت طے کرنے کا قانونی اختیار نہیں :چھتیس گڑھ ہائی کورٹ

,

   

بلاسپور، 8 ستمبر (یو این آئی) چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے مسلم خاتون کے ازدواجی حقوق سے جڑے معاملے میں کہا کہ کوئی نجی مذہبی ادارہ یا خود کو شرعی کورٹ بتانے والی تنظیم قانون کے ذریعے قائم کردہ عدالت نہیں ہے ۔ ایسا ادارہ کسی خاتون کی ازدواجی حیثیت کا قانونی فیصلہ کرنے یا اس کی شادی ختم ہونے کا حتمی اعلان کرنے کا مجاز نہیں ہے ۔جسٹس امیتیندر کشور پرساد کی سنگل بنچ نے رائے پور کے ادارۂ شرعیہ اسلامی کورٹ کی جانب سے 18 جنوری 2022 کو جاری حکم نامے کو قانونی اختیار سے بعید قرار دیا ہے ۔ اس حکم نامے میں درخواست گزار خاتون کو اس کے شوہر سے مطلقہ بتایا گیا تھا، ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ یہ حکم کسی عدالتی نظام کے تحت پاس نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی بنیاد پر نہ تو شادی ختم مانی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی فریق کے قانونی حقوق، حیثیت یا ذمہ داریوں میں تبدیلی آ سکتی ہے ۔معاملے کے مطابق رائے پور کے ٹکراپارہ کے رہائشی نروش عباسی (38) کے پہلے شوہر کا 2015 میں انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے 18 جولائی 2020 کو محمد عابد خان سے نکاح کیا۔ نئے خاندان میں بچوں کے ساتھ ہم آہنگی پر میاں بیوی کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا۔درخواست گزار کے مطابق تنازعہ کے بعد شوہر نے طلاق کا طریقہ کار شروع کیا۔ دوسری طرف شوہر کا کہنا تھا کہ اس نے “طلاقِ حسن” کے عمل کے تحت 31 اگست30 ستمبر اور 30 اکتوبر 2021 کو تین مراحل میں طلاق کا اعلان کیا تھا۔خاتون نے شوہر اور سسرال والوں پر ہراسانی، ظلم اور بدسلوکی کے الزامات عائد کرکے شکایت درج کرائی۔ ون اسٹاپ سخی سینٹر میں دونوں فریقین کی کونسلنگ بھی کرائی گئی، لیکن تنازعہ کا کوئی حل نہ نکل سکا۔ اس کے بعد خاتون نے7 اکتوبر 2021 کو ایس پی (سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) کے سامنے شکایت درج کروائی۔ اس معاملے میں یکم نومبر 2021 کو رائے پور کے وومن تھانے میں شوہر سمیت دیگر لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 498-A اور 34 کے تحت ایف آئی آر رج کی گئی۔