خدمت خلق ، نفرت کے خاتمہ کا موثر ہتھیار

   

Ferty9 Clinic

مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں مفتی عبدالفتاح عادل کا خطاب
حیدرآباد ۔ /3 ستمبر (راست) نفرت کا ماحول اگر ختم کرنا ہے تو اس وقت سب سے زیادہ ضروری چیز خدمت خلق کے جذبہ کو فروغ دینا ہے ۔ برادران وطن سے حسن سلوک اور شریفانہ برتاؤ سے پیش آنا ہے ، مخلوق خدا سے محبت ، ان کی انسانیت کی بنیاد پر خدمت سے برادران وطن کا دل جیتا جاسکتا ہے ۔ اسوۂ رسولؐ کا تقاضہ ہے کہ ہم محلہ واری سطح پر ایک گروپ کی شکل میں اپنے پڑوسیوں کے علاوہ عام بندگان خدا تک پہونچ کر ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل کریں ۔ بھوک اور فاقہ میں مبتلا افراد سے ملاقات کریں اور ان کی مدد کریں ۔ سنگدلی اور خودغرضی کی زندگی کو چھوڑیں اوراپنے آپ کو دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنائیں ۔ دواخانوں میں پہونچ کر بلالحاظ مذہب و ملت تیمارداری کریں ۔ ان کی خدمت کردیں ۔ ان کے کچھ کام آجائیں ۔ وفات پر تعزیت کریں اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے انہیں پرسہ دیں ۔ بہت سے ہمارے غیرمسلم بھائی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں ۔ انہیں اس سے نجات دلائیں ۔ بہت سے لوگ بے کسی اور مفلسی کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں ۔ انہیں حتی المقدور سمجھاکر اور ہوسکا تو ان کی مدد کرکے اس سے باز رکھیں ۔ بہت سے غیر مسلم بھائیوں کو کاروبار میں حد سے زیادہ نقصان ہوجاتا ہے تو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ان کی بازآبادکاری کرکے غلط فیصلہ لینے سے روکیں ۔ یہ ہے اس وقت کا عملی کام جو ایک مسلمان کو انجام دینا ہے ، خدمت خلق کے بغیر نہ ملک میں امن و امان قائم ہوگا ، نہ برادران وطن تک اسلام کا صحیح پیغام پہونچے گا ، ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی (استاذ جامعۃ البنات سعیدآباد) نے مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں کیا ۔ مولانا نے کہا کہ ناموافق حالات میں انسانی بنیادوں پر سماج اور معاشرہ کی بلالحاظ مذہب و ملت خدمت کرنا ، ان کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہی ایسا موثر ہتھیار ہے جس سے دشمن دوست بن جاتے ہیں ۔ عداوت ، ہمدردی اور محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔