برمنگھم۔ بین اسٹوکس اور برینڈن میک کولم کے 2022 میںکپتان اور ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انگلینڈ کی جانب سے انتہائی کامیاب بے رحم اور جارحانہ انداز اپنایاگیا اور حال ہی میں ورلڈ ٹسٹ کا تاج پہنائے جانے والے آسٹریلیا کا ایشزمیں ایک سخت امتحان انتظار کررہا ہے جیسا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان سیریز جمعہ سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہی ہے۔ اگلے چھ ہفتوں کے دوران جو یکساں طور پر جوش، سنسنی اور تناؤہوگا، انگلینڈ جس نے اسٹوکس اور میک کولم کی قیادت میں 13 میں سے 11 ٹسٹ میچ جیتے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے عوام کی نظریں مرکوز ہیں کہ کیا وہ اپنے کھیل کے اندازکو برقرار رکھ پاتے ہیں اور طاقتور آسٹریلیا کے خلاف ان کے مظاہرے کیا ہوں گے ۔ کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ پانچ میچوں کی سیریز 2021/22 کے مقابلے میں قریب ترہوگی جب آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ان کے گھر میں 4-0 سے شکست دی تھی۔ انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ میں ان کے پاس بین ڈکٹ، زیک کرولی، اولی پوپ، جو روٹ اور خود کپتان اسٹوکس کا جوش اور تجربہ ہے۔ جونی بیئرسٹو کی بروقت واپسی نے دھماکہ خیز بیٹنگ لائن اپ کو مزید تقویت بخشی ہے۔ لیکن انگلینڈ کے بولنگ لائن اپ میں ممکنہ مسائل ہیں۔ آل راؤنڈر معین علی بھی ٹسٹ سبکدوشی کے فیصلے سے باہر آچکے ہیں اور ان کے انگلینڈ کے فرنٹ لائن اسپنر کے طور پر کھیلنے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ علی کے دو سال کے بعد براہ راست ٹسٹ میچ کھیلنے کے بعد اس بارے میں شکوک و شبہات ہیں کہ وہ کس طرح کا مظاہرہ کریں گے، خاص طور پر ٹسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف گیند کے ساتھ ان کی اوسط 65 ہے۔ جیمزاینڈرسن اور اولی رابنسن کی فٹنس پر شکوک و شبہات پیدا ہوں گے، جوآئرلینڈ کے خلاف تکلیف کی وجہ سے ٹسٹ میں شرکت سے باہر ہونے کے بعد ایشز کھیل رہے ہیں، جب کہ بائیں گھٹنے میں تکلیف کے باعث اسٹوکس کی بولنگ کرنے کی صلاحیت بھی غیر یقینی ہے۔ آسٹریلیا بھی اپنے بولنگ کے مسائل پر غورکر رہا ہے، 2023 کے ورلڈ ٹسٹ چمپیئن شپ فائنل میں اسکاٹ بولانڈ کی پانچ وکٹوں نے انہیں زخموںکے شکار جوش ہیزل ووڈ پر برتری دی، جیسا کہ مچل اسٹارک، کپتان پیٹ کمنز اور ناتھن لیون ایک طے شدہ بولنگ شعبہ کو شکل دیتے ہیں۔ بیٹنگ شعبہ میں آسٹریلیا کے پاس مارنس لیبوشین، اسٹیو اسمتھ اور ٹریوس ہیڈ میں ٹاپ تین ٹسٹ بیٹرسہیں، حالانکہ ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ کی ان کی اوپننگ جوڑی کو بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں جہاں فرنچائزٹی 20 لیگز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے چل رہی ہیں، ایشز نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کرکٹ شائقین کو ٹسٹ کرکٹ سے ان کا جوش و خروش اور تیز رفتار ایکشن ملے۔ اس بار عوامی تخیل کو ایک بار پھر گرفت میں لیا جائے گا۔