نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) محکمۂ خلا کے وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ نے ہندوستانی خلائی شعبے کو نجی شراکت کیلئے کھولے جانے کے بعد پیش رفت کی ستائش کرکے امید ظاہر کی کہ آئندہ 8 سال میں ملک کی خلائی معیشت 45 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔’خلا، خودمختاری اور نئی معیشت’ کے عنوان پر ایک گول میز میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی خلائی معیشت کا موجودہ حجم نو ارب ڈالر ہے ۔ اگلے سات سے آٹھ سال میں اس کے 40 سے 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اب اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی سطح پر مسابقتی تجارتی خلائی کمپنیوں کے قیام کی سمت میں قدم بڑھانا چاہئے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستانی اداروں کو بڑا بنانے اور عالمی منڈیوں میں ان کی موجودگی کو وسعت دینے زیادہ ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری، مانگ میں شفافیت، تیز رفتار ریگولیٹری منظوریاں اور پائیدار بزنس ماڈل انتہائی ضروری ہونگے ۔’بلومبرگ نیو اکنامی فورم’ کے زیرِ اہتمام منعقدہ راؤنڈ ٹیبل میں انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر کے ڈائرکٹر ونود کمار اور اسٹیم بورڈ نیز لنگو کی بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر اور خلا باز عائشہ بووے بھی شامل تھیں۔وزیر نے زور دیا کہ نجی خلائی کمپنیوں کی ترقی کیلئے مانگ پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ ایک مخصوص کسٹمر بیس ہونے سے کمپنیوں کو پیداوار میں سرمایہ کاری کرنے ، مارکیٹ کیلئے تیار مصنوعات تیار کرنے اور آمدنی کے پائیدار ذرائع بنانے کا اعتماد ملتا ہے ۔انہوں نے بروقت ریگولیٹری منظوری ملنے ، تجارت کی لاگت کم ہونے اور سپلائی چین کی بہترانٹیگریشن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہندوستان اپنی ملکی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ سرمایہ اور شراکت کیللے بھی مواقع فراہم کر رہا ہے ۔