ٌٌ٭ معمولی اختلافات کو وجہ بنا کر پولیس و عدالتوں کے چکر عام ہوگئے
٭ عدالتوں و پولیس کے چکر کاٹنے والی خواتین و لڑکیاںاستحصال کا شکار
٭ ہمدردی کے نام پر چلتے پھرتے بھیڑیوں کا شکار ہونے سے بچانا ضروری
٭ سماج سدھار تنظیموں اور ملی اداروں و ذمہ داروں کو سرگرم ہونا چاہئے
سید خلیل قادری
حیدرآباد 10 مئی : بدلتے وقت اور تقاضوں کے ساتھ سماج اور معاشرہ میں تبدیلیاں ایک فطری بات ہے تاہم سماج اور معاشرہ کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہمیشہ ہی نقصان کا سبب بنا ہے اور بنتا رہے گا ۔ اسلام نے بھی ایک فطری اور آفاقی مذہب ہونے کے ناطے زندگی گذارنے کے جامع اور مکمل اصول اور ضوابط سے ساری دنیا کو واقف کروادیا تھا ۔ جس طرح سے دنیا بھر میں حالات تبدیل ہوتے جارہے ہیںاس کے زندگیوں پر اثرات بھی مرتب ہوتے جا رہے ہیں ۔ ان میں جہاںکچھ مثبت پہلو ہیں تو وہیںکچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کے زندگیوں پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک سنگین مسئلہ مسلم معاشرہ میں ناسور کی طرح سرائیت کرتا جا رہا ہے اور وہ ہے مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں خلع اور طلاق کے رجحان کا ہے ۔ کچھ برسوں قبل تک بھی طلاق اور خلع کے معاملات بہت کم دیکھنے میں آتے تھے ۔ کہیں کہیںسنا اور دیکھا جاتا تھا کہ کسی کا خلع یا طلاق ہوچکا ہے تاہم آج کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ میں طلاق اور خلع کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہونے لگا ہے اور اس کی وجہ سے سماج کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیںاور اس کے نتیجہ میں کئی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے تاہم اس کی
وجوہات بہت زیادہ سنگین نہیں ہے ۔ معمولی باتوں اور معمولی اختلافات پر شادی جیسے مقدس رشتے کو ختم کرنا اور خلع یا طلاق حاصل کرلینا آج کے دور کا معمول بن گیا ہے ۔ بیٹیوں کی زندگیوں اور ان کے گھروں میں مائیکے والوں کی مداخلت ہو یا پھر نوجوان لڑکوں کی بے راہ روی اور لاپرواہ انداز یا پھر ذمہ داریوں سے فرار ہو ‘ یہ سب کچھ طلاق اور خلع کے واقعات کی وجوہات بن رہے ہیں۔ زندگی گذارنے کے طور طریقوں میں معمولی سی تبدیلی اور اپنے رکھ رکھاو میں اعتدال پیدا کرکے اس سنگین مسئلہ پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔ جہاں ہماری لڑکیاں ایک تصوراتی دنیا کو ہی حقیقی دنیا سمجھ کر اسی میںزندہ رہنا چاہتی ہیں وہیں ہمارے لڑکے بھی زندگی کی سنجیدگی سے کوسوں دور دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی کا کوئی ضابطہ حیات ہی نہیں رہ گیا ہے ۔ خواہشات اور دنیا کے چال چلن سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہم اپنی زندگیوں کو اجیرن بناتے چلے جا رہے ہیں ۔ صورتحال کی سنگینی یہیں تک محدود نہیں رہ گئی ہے ۔ معمولی باتوں سے شروع ہونے والے اختلافات پولیس اور پھر عدالتوں تک پہونچ رہے ہیں۔ بات جب پولیس اور عدالتوں تک پہونچ جاتی ہے تو پھر صورتحال کسی کے ہاتھ میں نہیں رہ جاتی ۔ کئی ایسے معاملات کا بھی پتہ چلا ہے کہ طلاق اور خلع کے مقدمات میں الجھی ہوئی لڑکیوں اور خواتین کا کئی طرح سے استحصال ہونے لگتا ہے ۔ کچھ واقعات ضرور علم میں آئے ہیں جہاں خواتین اور لڑکیوں کو حوس کے پجاریوں کا بھی شکار ہونا پڑا ہے اور وہ ابتداء میں ان لڑکیو ں اور خواتین کے ہمدرد کے روپ میںآگے آئے تھے ۔ بعد میں انہوں نے بھیڑیوں کا روپ اختیار کرلیا اور لڑکیوںاور خواتین کو استحصال کا شکار بنایا ۔ ایک دلدل سے نکلنے کی کوشش میں لڑکیاں اور خواتین دوسرے دلدل میںجا پھنسی ہیں۔ یہ مسئلہ محض کسی کو مورد الزام ٹہرانے سے حل ہونے والا نہیں ہے ۔ امت مسلمہ کے ذمہ داروں کو اس کی سنگینی کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ یقینی طور پر کچھ مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے فیملی کونسلنگ سنٹرس بھی چلائے جا رہے ہیں اور طلاق و خلع کو ٹالنے کی حتی المقدور کوشش بھی ہو رہی ہے تاہم یہ کوششیں کافی نہیںہیں ۔ مزید ذمہ داری کے ساتھ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ طلاق یا خلع کے ذاتی اور انفرادی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ طلاق و خلع حاصل کرنے والی خواتین و لڑکیوںکو سماج کی گندی نظروں سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ اغیار کے پاس انصاف کی امید لے کر در در بھٹکنے سے روکا جانا چاہئے ۔ سماج سدھار کی تنظیمیںہوں یا ملی ادارے ہوں اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسے دور میں جبکہ ہم کئی طرح کے مسائل کا شکار بنائے جا رہے ہیں اور ہمارا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ہمیں اپنی ہی صفوں کو سب سے پہلے درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو واقعات ہمارے سماج میں عام ہوگئے ہیں وہ در اصل ایک ناسور کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس سے سارے معاشرہ کو بچانے کی ضرورت ہے ۔ جہاں لڑکیوں کو ازدواجی زندگی کے اصول و ضوابط سے واقف کروایا جانا چاہئے ‘ زندگی کی تلخ حقیقتوں سے روشناس کروایا جانا چاہئے وہیں ہمارے نوجوانوں میں بھی زندگی کی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک متوازن زندگی کے اصول سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنے مسائل کی یکسوئی خود ہی کرنے کیلئے پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب ہم اغیار کے در پر جائیں گے تو ہمارا استحصال ہونا شروع ہوجائے گا اور مسلم مرد و خواتین اور لڑکے و لڑکیوںکو اس سے بچانا سب کی ذمہ داری ہے ۔