تلنگانہ اور آندھرا حکومتوں کو نوٹس، مرکز سے وضاحت طلبی
حیدرآباد: خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی واپسی کے سلسلہ میں سپریم کورٹ نے مرکز اور 12 ریاستوں کو نوٹس جاری کی ہے جن میں تلنگانہ اور آندھراپردیش شامل ہیں۔ مفاد عامہ کی درخواست کے تحت سپریم کورٹ نے مرکز ، سی بی آئی اور 12 ریاستوں سے وضاحت طلب کی ہے تاکہ خلیجی ممالک میں پاسپورٹس سے محروم ہندوستانیوں کی واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مفاد عامہ کی درخواست میں حکومت سے خواہش کی گئی کہ وہ باقاعدہ پالیسی تیار کرتے ہوئے نہ صرف واپسی بلکہ ان کی بھلائی کے اقدامات کرے۔ جسٹس این وی رمنا ، جسٹس سوریا کانت اور جسٹس انیرودھ بوس پر مشتمل تین رکنی بنچ نے وزارت داخلہ سی بی آئی کے علاوہ تلنگانہ ، آندھراپردیش ، مغربی بنگال ، اڈیشہ ، اترپردیش ، بہار اور دیگر ریاستوں کو نوٹس جاری کی ہیں۔ پی بسنت ریڈی کی جانب سے ایڈوکیٹ شراون کمار نے عدالت کو بتایا کہ ہندوستانی سفارت خانوں کی جانب سے پھنسے ہوئے افراد کو وطن واپس کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جبکہ دیگر ممالک اپنے باشندوں کو واپس طلب کر رہے ہیں۔ صدر گلف تلنگانہ ویلفیر اینڈ کلچرل اسوسی ایشن بسنت ریڈی نے مفاد عامہ کی درخواست میں روزگار کے لئے خلیجی ممالک پہنچنے کے بعد ایجنٹ اور آجرین کی جانب سے دھوکہ دہی کا شکار افراد کی وطن واپسی کے انتظامات کی خواہش کی۔ خلیج میں فوت ہونے والے ہندوستانیوں کی میتوںکی واپسی اور جبراً لیبر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ورکرس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔
درخواست گزار نے کہا کہ کئی ایسے ملازمین ہیں جن کا پاسپورٹ گم ہوگیا ہے۔ ان حالات میں ہندوستانی سفارت خانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ واپسی کے انتظامات کریں۔ درخواست گزار نے خلیجی ممالک میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے 44 ہندوستانیوں اور جیلوں میں بند 8189 ہندوستانی ورکرس کو قانونی امداد کی فراہمی کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں روزگار کیلئے لوگ خلیج روانہ ہوئے جہاں لیبر ، ڈرائیور ، ہیلپر ، سیلس مین اورگھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ بیشتر افراد غیر تعلیم یافتہ ہے جس کے نتیجہ میں ایجنٹس اور آجرین کے استحصال کا شکار ہے۔ غیر قانونی ایجنٹس نے ٹورسٹ ویزا پر ورکرس کو روانہ کرتے ہوئے روزگار کا وعدہ کیا لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انہیں مقامی ایجنٹ کو فروخت کردیا گیا ۔ خلیج میں پھنسے ہوئے ہندوستانی ورکرس کی تمام تر تفصیلات حکومت کے پاس دستیاب نہیں ہے۔