سیاست ملت فنڈ پروگرام، سید شفیق الدین و دیگر کی شرکت، منتظمین پروگرام کا خطاب، سرپرستوں کا استفادہ
حیدرآباد ۔ 24 فبروری (سیاست نیوز) سیاست اور ملت فنڈ کے زیراہتمام 133 واں دو بہ دو ملاقات پروگرام آصف نگر رائل ریجنسی گارڈن میں منعقد ہوا جس میں والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد نے رشتوں کے سلسلہ میں والدین سے بات چیت کی۔ اس پروگرام میں ایسے والدین بھی شریک تھے جنہوں نے دوبئی، امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں ہیں جو اپنے لڑکوں کے رشتہ کے سلسلہ میں پہنچے، جن میں سید شفیق الدین انجینئر جو اپنی اہلیہ ڈاکٹر فردوس عطیہ (منسٹری آف ہیلت) کے ہمراہ اپنے لڑکے کے رشتے کیلئے پہنچے۔ انہوں نے پروگرام کی نوعیت اور اس کی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک منفرد نوعیت کی پہچان پر جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست اور جناب عامر علی خان اور جناب ظہیر الدین علی خان مرحوم کے فرزندان جناب اصغر علی خان، جناب فخر علی خان اور دیگر کو مبارکباد دی جنہوں نے اپنی محنت و مشقت سے ایسے لڑکے و لڑکیاں جو بیرونی ممالک میں برسرکار ہیں، ان کیلئے اور خود شہر حیدرآباد میں لڑکے و لڑکیوں کے والدین کو رشتوں کے ضمن میں آسانیاں فراہم کررہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے کہا کہ ان دنوں والدین کیلئے اپنی لڑکی اور لڑکے کی شادی کرنا ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے جبکہ اسلام نے اس کو بڑا آسان سے آسان تر کہا۔ جناب الیاس باشاہ نے کہاکہ جو لوگ اپنے مالک حقیقی سے رشتہ مضبوط بنالیتے ہیں، مالک ان کی ہر قدم پر مدد کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ازدواجی زندگی کے بندھن میں جڑنے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو ایسے افراد سے ان کی مدد کروانا ہے کہ جس کی طرف ان کا گمان گیا ہی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے شادی بیاہ تقاریب کو آسان اور ایک ڈش پر انجام دینے کیلئے آواز اٹھائی اور اسے تحریک کی شکل دی تو حیدرآباد اور ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں اس پر عمل پیرائی ہوئی۔ پروگرام میں شہر حیدرآباد و اضلاع کے لڑکے و لڑکیوں کے رشتوں کے ساتھ بیرونی ممالک امریکہ، کینیڈا، سعودی عرب، دوحہ قطر، دوبئی، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک میں ملازمت کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاس کو والدین نے دیکھا اور مشاورت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ پروگرام میں جناب افتخار، جناب اسمعیل منیجر اشتہارات سیاست، شاعر مرزا رفیع اللہ بیگ اور والدین و سرپرستوں کی کثیر تعداد موجود تھی جنہوں نے بائیوڈاٹاس کے ذریعہ ایک دوسرے سے مشاورت کی۔ انجینئرنگ سکشن سے ایسے لڑکوں کے بائیو ڈاٹاس پڑھے گئے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو ملک اور بیرونی ممالک میں بڑی کمپنیوں میں ملازمت کررہے ہیں۔ تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے کاؤنٹرس ترتیب دیئے گئے تھے۔ ان کاؤنٹرس پر علی الترتیب محمدی، سعیدہ، ثانیہ، رئیسہ، تسکین، لطیف النساء، لطیف اسد، ناظم علی، کوثر جہاں، محمداحمد، ڈاکٹر دردانہ، صالح بن عبداللہ باحاذق، الیاس باشاہ، ثانیہ، آمنہ خان، ثمرہ، غوثیہ جبکہ بوائز رجسٹریشن کاؤنٹر پر غوث اور گرلز رجسٹریشن کاؤنٹر پر شمیم، شاہانہ نے رجسٹریشن کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس طرح آج کے دو بہ دو پروگرام میں لڑکے اور لڑکیوں کے 50 سے زائد رجسٹریشن ہوئے۔ انجینئرنگ کاؤنٹر پر بہت سارے بائیو ڈاٹا جو لڑکے اور لڑکیاں بیرونی ممالک میں کام کررہی ہیں پڑھا گیا۔ پروگرام میں حصہ لینے والوں میں نظام الدین لئیق، منصور، اظہر، احمد، عامر اور عثمان و دیگر ہیں جنہوں نے مختلف کاؤنٹرس کے لگوانے میں تعاون کیا۔ پروگرام کے آخر میں جناب خالد محی الدین اسد نے جناب سعید بن محمد القعیطی، جناب فیصل بن علی القعیطی مالکین رائل ریجنسی گارڈنس کا شکریہ ادا کیا۔