خواتین افطاری وسحری پر روحانی خوشی سے سرشار

   

ماسی نے بتایا کہ اندرون شہر کے لوگ ابھی زور وشور سے رمضان کا استقبال کرتے ہیں سارامہینہ بڑی گہما گہمی رہتی ہے سارے محلے کے لوگ ایک ہی کنبے کی طرح روزے گزارتے ہیں۔ افطاری کے وقت گھر میں جوبنایا ہوتا ہے ہمسایوں کو ضروربھجواتے ہیں۔ دوسری عورتوں کی طرح ہمیں بھی افطاری کیلئے روزانہ مختلف چیزیں بناتی پڑتی ہیں۔ میں تو خود بادام کا شربت بنالیتی ہوں جو روزہ کھول کر شوق سے پیتے ہیں۔ صندل کا شربت بھی گھر میں خود بنا کر بوتلوں میں بھر لیتی ہوں اس کے علاوہ شکر کا شربت بھی بنا کر شوق سے پیتے ہیں جس سے پیاس کی تلخی کم ہو جاتی ہے۔غرض یہ کہ رمضان کے شب وروز اسی طرح سحری وافطاری کی تیاری کرنے میں گزر جاتے ہیں۔ظاہر ہے عام دنوں کی نسبت ان دنوں میں سب عورتوں کی مصروفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ کہ رمضان میں ہر جمعہ ہم سب محلے کی عورتیں اکٹھی ہو کر ایک ہی جگہ پڑھتی ہیں اسی طرح ستائیسویں کی رات بھی سب مل کر اجتماعی عبادت کرتی ہیں جو رات دوبجے تک جاری رہتی ہے بعد میں عورتیں سحری کا انتظام کرنے اپنے اپنے گھروں کو چلی جاتی ہیں۔اس طرح ستائیسویں کی یہ ساری رات اللہ کی حمدوثنا اور ذکرو اذکار میں گزر جاتی ہے۔ رخشندہ طالب کہتی ہیں کہ رمضان کے آنے پر تمام مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں برجمان ہوجاتی ہیں۔ہمارے گھر میں رمضان کا استقبال ایک خاص مہمان کے طور پر کیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی سارے گھر کی خصوصی صفائی کی جاتی ہے گھر کے سارے برتنوں کو دھویا جاتا ہے۔کھڑکیوں دروازوں کے تمام پردوں کو دھو کر دوبارہ لٹکایا جاتا ہے۔مہینے بھر کا راشن گھر میں لا کر رکھ دیا جاتا ہے آج کل مہنگائی نے تو رمضان کے آنے سے پہلے ہی لوگوں کو بے حال کر دیا ہے۔ دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو گیا ہے رمضان میں تو ویسے بھی ہر گھر کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی جیسے تیسے کرکے لوگ گزراہ تو کرلیں گے مگر ہمارے ارباب اختیار کو غریبو ں کی کوئی فکر نہیں کوئی جیئے یا مرے انہیں اس سے کیا غرض ۔ خیر تو ماشاء اللہ ہم سب گھر والے روزے رکھتے ہیں دو بیٹیاں زیر تعلیم ہیں یہ دونوں کالج سے آکر تھوڑا آرام کرتی ہیں اور پھر افطاری کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ میری طرح انہیں بھی کھانے پکانے کا بڑا شوق ہے ۔ رمضان میں کھانا پکانے کی ذمہ داری میری ہی ہوتی ہے جب کہ بچیاں افطاری کیلئے نئی نئی ڈشیں بنانے میں مصروف ہوجاتی ہیں۔آج کل یوٹیوب کے مختلف چینلوں پر طرح طرح کے پکوان بنانے سکھائے جاتے ہیں بچیاں ان کے بنانے کے طریقے نوٹ کر لیتی ہیں اور پھر وہ اسی طرح نت نئے پکوان بناتی ہیں۔افطاری کے وقت ان کی بنائی ہوئی ڈشیں کھا کر تعریف کرتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔ بس اسی طرح ہنسی خوشی اور گہماگہمی میں رمضان کا مہینہ گزر جاتاہے۔ سچی بات تو یہی ہے کہ ماہ رمضان میں خواتین کو عام دنوں کی نسبت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور رمضان کے آخری عشرہ میں ان کی مصروفیات میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ انہوں نے آنے والی عید کی بھی تیاری کرنی ہوتی ہے اپنے لئے اپنے گھروالوں کیلئے عید کی شاپنگ کرنے کیلئے بازاروں اور مارکیٹوں کے چکر بھی لگانا پڑتے ہیں۔ روزے کی حالت میں شاپنگ کیلئے گھومنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے دن کی بجائے زیادہ تر رات کے وقت ہی خریداری کی جاتی ہے جب کہ بازاروں میں رش بھی ہو جاتا ہے ۔ آخر میں ایک پتے کی بات بتاتے چلیں کہ اگر شاپنگ کیلئے نکلنا ہے تو افطاری کے فوراً بعد نکل جائیں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بازاروں میں اتنا رش نہیں ہوتا۔اس وقت آپ آسانی سے شاپنگ کر سکتے ہیں۔افطاری کے تقریبادو گھنٹوں کے بعد بازاروں میں رش شروع ہوتا ہے ۔ اسی لئیہ میں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ افطار کے فوری بعد شاپنگ کیلئے نکل جائیں ۔ اپنے ساتھ جوس یا پانی کی بوتل ضرور رکھیں تاکہ آپ وقفہ وقفہ سے تازہ دم ہوسکیں ۔ افطارکرنے کے بعد بھی روزہ داروں کو سُستی کا احساس ہوتا ہے جس کیلئے بہترین ایرانی چائے آپ کو یاد آتی ہے جو شاپنگ کے دوران بہ آسانی دستیاب ہوجاتی ہے ۔ ویسے آج کل بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کی شاپنگ اگر ماہ شعبان میں ہی کرلی جائے تو بہتر ہے ۔ اس طرح آپ رمضان المبارک کا پورا مہینہ کسی تناؤ کے عبادتوں میں گزارسکتے ہیں کیونکہ شاپنگ کا تناؤ تو آپ کے ماہ شعبان میں ہی دور کر لیا تھا ۔ امید کرتی ہوں میری یہ چند باتیں ہماری خاتون قارئین کو پسند آئیں گی۔