رمضان میں مصروفیات کے بارے میں ہم نے کچھ گھریلو خواتین سے بات کی ہے ان کے تاثر ات قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔ ا س کی بات زاہدہ بیگم کہتی ہیں کہ بے شک رمضان اپنے ساتھ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے اس ماہ میں فضاؤں اور ہواؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت شامل ہوتی ہے۔مسلمان دن رات اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی ہمت کے مطابق عبادات کو معمول بنا لیتے ہیں۔ مساجد کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں گھروں میں عورتیں بھی نماز،روزہ،تلاوت قرآن پاک اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف ہوجاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج بھی کرنا ہوتے ہیں۔ ہانڈی روٹی کے علاوہ افطاری کیلئے جو چیزیں تیار کی جاتی ہیں اُن میں کافی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے۔نماز عصر کے بعد وقت بڑی تیزی سے گزرتا ہے اور کئی چیزیں پکانی ہوتی ہیں بچوں کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے ۔ مغرب سے پہلے اپنے کاموں سے واپس آجاتے ہیں دستر خوان لگ جاتا ہے لگ نہیں بلکہ سج جاتا ہے کسی نے کوئی آئٹم بنائی ہوتی ہے اورکسی نے کوئی…افطاری کے وقت بچوں کا شوق اور تجسس دیدنی ہوتا ہے بچوں کا روزہ ہونہ ہو افطاری بڑے شوق سے کرتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں طرح طرح کی چیزیں کھانے کو ملتی ہیں افطاری پر خوب رونق لگتی ہے یہ بھی اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہم سب مل جل کروہ افطارکرتے ہیں۔ اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ بچوں میں اسی طرح اتفاق محبت قائم رہ۔نماز مغرب کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور عشاء کے بعد حسب توفیق کوئی کلمہ کلام پڑھتے ہیں۔سونے میں گیارہ بارہ بج جاتے ہیں۔بمشکل دوگھنٹے آرام کرتے ہیں اور دوبجے سحری کی تیاری شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح یہ مبارک مہینہ بیت جاتا ہے۔آسیہ کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماہ رمضان میں خواتین کے معمولات میں کافی فرق پڑتا ہے اور رمضان کے دنوں میں ان کی مصروفیات میں کافی حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ رمضان کی برکتیں ہی تو ہیں کہ گھر گھر دستر خوانوں پر طرح طرح کے لوازمات سجے ہوتے ہیں۔خواتین کو عام دنوں میں معمول کے مطابق کھانا پکانا ہی ہوتا ہے مگر اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی کہ کھانا کس وقت پکایا جائے کھانا جس وقت بھی بنے یا جس وقت بھی کھا لیاجائے کوئی حرج نہیں ہوتا مگر رمضان میں وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ صبح سحری سے پہلے اٹھ کر کھانا نہ پکایا جائے تو روزہ داروں کا روزہ رہ جاتا ہے یا ان کو کچھ کھائیے پئے بغیر روزہ رکھنا پڑتا ہے۔اسی طرح عام گھروں افطاری سے پہلے ہی کھانا بنا لیا جاتا ہے بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو روزہ کھولنے کے ساتھ ہی کھانا کھالیتے ہیں جو کہ ایک اچھی عادت ہے اگر روزہ کھول کر دوسری چیزیں پیٹ میں انڈیل لی جائیں تو معدہ بوجھل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بعد میں کھانا کھانے کو جی نہیں کرتا۔ بہر حال افطاری کیلئے کھانے کے ساتھ ساتھ دوسری چیزیں بھی بنانی پڑتی ہیں جن کے بغیر افطاری کا تصور نہیں۔ چاہے یہ چیزیں تھوڑ ی تھوڑی ہی کھائی جائیں بنانی ضرور پڑتی ہیں۔ان چیزوں کو بنانے کیلئے نماز عصر کے بعد ہی تگ ودوشروع ہوجاتی ہے ویسے تو افطاری کا سامان بازار سے ہی مل جاتا ہے جس میں سموسے۔پکوڑے۔دہی بھلے اور چاٹ وغیرہ شامل ہیں۔ بازار کی بنی ہوئی کھانے پینے والی چیزوں کا جو حال ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔حفظان صحت کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کرکے ایسی گھٹیا معیار کی چیزیں بنائی جاتی ہے جن کے کھانے سے روزہ دار کو کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔ ہم تو اسی لئے بہت سی چیزیں گھر پر ہی بنا لیتے ہیں جن میں سموسے بھی شامل ہوتے ہیں ٹھیک ہے ایسی چیزیں بنانے میں کافی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے مگر یہ تو ہے کہ گھر کی بنی ہوئی چیزیں زیادہ ثقیل نہیں ہوتیں اور جلد ہضم ہوجاتی ہیں۔یہ سب کچھ بنانے میں ہمیں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی خوشی خوشی اور دل جوئی سے ہم یہ سارے کام کرتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہے کہ واقعی رمضان میں خواتین کی مصروفیات میں قدرے اضافہ ہوجاتاہے۔ برکت بی بی اندرون شہر میں رہتی ہیں اسے محلے والے پیار سے ماسی کہتے ہیں۔جب ہم نے ماہ رمضان میں خواتین کی مصروفیات کے بارے میں سوال کیا تو پہلے وہ اپنے ماضی میں کھوگئیں جب مسجد سے آنے والی اذان کی آواز سن کر روزہ رکھا اور کھولا جاتا تھا۔شہر کے چاروں طرف سے آنے والی اذان کی آوازیں بڑا پر لطف سماں پیدا کرتی تھیں ۔
(باقی سلسلہ آئندہ )