خواتین تحفظات بل اور حکومت کی نیت

   

روش کمار
ملک میں فی الوقت لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے سے متعلق بل کے کافی چرچے ہیں۔ اپوزیشن بالخصوص کانگریس اور شیوسینا ادھوٹھاکرے مودی حکومت کے اس منصوبہ پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کے منصوبوں پر یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ آیا خواتین تحفظات بل خواتین کیلئے لایا جارہا ہے یا اس کے بہانہ جنوبی ریاستوں کا سیاسی اثر کم کرنے کیلئے لایا جارہا ہے۔ حکومت تین الگ الگ بل لیکر آرہی ہے جس کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 تا 18 اپریل بلایا گیا۔ سب کا تعلق ایک دوسرے سے ہے۔ پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد سے جنوبی ہند بنام شمالی ہند ہوگیا ہے۔ اس لئے ضروری ہیکہ جنوبی ہند کی تشویش کو الگ سے سمجھا جائے۔ سیٹوں سے جڑے سوالوں کی چرچا ہم اپنے دوسرے مضمون میں بھی کریں گے۔ آپ کو بتادیں کہ Delimitation کو نئی حدبندی کہا جاتا ہے۔ حکومت نے دستور کے 131 ترمیمی بل 2026ء کا مسودہ جاری کردیا ہے۔ ستمبر 2023ء میں جب ناری شکتی وندن بل تیار ہوا تب آئین میں 334A شق جوڑی گئی۔ اس شق کے تحت خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ایک تہائی تحفظ دیا گیا۔ تب کہا گیا کہ تحفظات تب دیئے جائیں گے جب پہلے مردم شماری اور اس کے بعد نئی حدبندی کا کام پورا ہوجائے گا مگر اس مرتبہ 334A میں جو ترمیم کی جارہی ہے اس کے ذریعہ مردم شماری کو اس سے ہٹایا جارہا ہے صرف حدبندی کو رکھا گیا ہے۔ دوسرا نئی حدبندی کا بھی ایک بل پیش کیا جائے گا جس میں لکھا ہے کہ اس کیلئے کمیٹی بنے گی جو وقت وقت پر تازہ مردم شماری کی بنیاد پر سیٹوں کی تعداد میں تبدیلی لاسکے گی اور تیسرا بل بھی ہے جس کا نام مرکزی زیرانتظام علاقوں سے متعلق قانون 2026۔ ستمبر 2023 میں ناری شکتی وندن بل پاس کرنے کے بعد 30 ماہ تک اس کی کہیں کوئی چرچا نہیں ہوئی۔ اب چاروں طرف اس کے بارے میں باتیں ہورہی ہیں۔ اس وقت ملک میں کیا ہورہا ہے جس سے عوام کی نظر ہٹانے کیلئے یہ سب کیا جارہا ہوگا۔ اس پر بھی سوچتے رہئے ناری شکتی وندن بل کی تمام سیاسی جماعتوں نے تائید و حمایت کی۔ اسے لیکر کچھ الگ سوال بھی مانگے ہیں مگر احتجاج کسی بھی بڑی جماعت نے نہیں کیا۔ تب اس بار خواتین تحفظات بل میں جو ترمیم ہورہی ہے اس کی مخالفت کیوں ہورہی ہے کیا اس لئے کہ اس کی آڑ میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد بدلی جارہی ہے تاکہ اس کی جو مخالفت کرے گا اسے ایسا دکھایا جائے کہ وہ خواتین تحفظات کی مخالفت کررہا ہے۔ خواتین کے حقوق کا مخالف ہے۔ الزام لگ رہا ہے کہ مودی حکومت پارلیمنٹ کی سیٹوں کی تعداد 2029 سے پہلے تبدیل کرسکتی ہے تاکہ جنوبی ہند کی ریاستوں سے ملنے والے چیلنج 2029ء کے لوک سبھا انتخابات میں ختم ہوجائے۔ صرف شمالی ہند کی سیٹوں کی تعداد کے دم پر اکثریت میں آجائے اگر ایسا ہے تب 2029 کا الیکشن سمجھئے شروع ہوگیا۔ ستمبر 2023 میں ناری شکتی وندن قانون کو پاس کئے جانے کے وقت بھی اپوزیشن نے مانگ کی تھی کہ لوک سبھا انتخابات سے 6 ماہ قبل قانون بن گیا ہے تو اسے 2024 میں نافذ کردیا جائے مگر تب حکومت نے نافذ نہیں کیا۔ خواتین تحفظات بل کے مسودہ میں لکھا ہے کہ 15 سال کیلئے تحفظات نافذ ہوگا اور اس کے بعد اس میں توسیع ہوگی۔ اس سطر کا مطلب آپ سمجھتے ہیں۔ یہ ٹائم لائن بھی خواتین مخالف ہے۔ تحفظات مخالف تو ہے ہی۔ خواتین تحفظات کے بہانہ ایک طرح سے تحفظات مخالف بحث کو تحفظات مخالف موقف کو نیا دستوری ہتھیار دیا جارہا ہے کہ جب خواتین کو 15 سال کے تحفظات دیئے جاسکتے ہیں تو کسی نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ خواتین نے بھی اس کا خیرمقدم کیا تو باقی طبقات کیلئے بھی تحفظات کی ڈیٹ لائن کا اعلان کردیا جانا چاہئے تھا۔ کیا آپ سمجھ پارہے ہیں کہ خواتین کو تحفظات دینے کے نام پر تحفظات کے نیچے بارودی سرنگ بچھائی جارہی ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے نے خود راجیہ سبھا میں پرزورانداز میں کہا کہ اس بل کی شق 5 کہتی ہیکہ تحفظات تب ہی نافذ ہوگا جب حلقوں کی نئی حدبندی کا کام مکمل ہوگا۔ نئی حدبندی بھی مردم شماری کے مکمل ہونے کے بعد کرائی جائے گی۔ نئی حدبندی بھی مردم شماری کے کام کے پورے ہونے کے بعد کرائی جائے گی مطلب خواتین تحفظات سے پہلے دو شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایک مردم شماری دوسرا حلقوں کی نئی حدبندی۔ یہ ہونے تک تو اس پر عمل آوری ہی نہیں ہوگی۔ خواتین تحفظات کو مردم شماری اور حلقوں کی نئی حدبندی سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کرسکتے ہیں کیونکہ بہت سی چیزوں کی ہماری مخالفت کے باوجود انہیں ایوان میں منظوری دلائی گئی۔ آپ کو معلوم ہے لیبر بل اور دوسرے متنازعہ بلز پاس کروائے گئے۔ کسان بل پورے پاس ہوگئے۔ 750 کسان شہید ہوگئے۔ وہاں سرحد پر بیٹھے ہوئے ایک سال دو سال تک اس کے باوجود بھی آپ نے وہ کسان بلز کو پاس کیا۔ خواتین تحفظات بل کو بھی پاس کرنا چاہئے تھا۔ دس سال کے دوران اکثر خواتین تحفظات بل منظور کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ بل کب نافذ ہوگا کسی کو پتہ نہیں کوئی 2029 لکھ رہا تھا کوئی 2034 تو کوئی 20239۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ جس قانون کو آگے کبھی جاکر نافذ ہونا ہے اس کا قانون 6 سال پہلے پاس ہوجائے اب اس میں بھی تحفظات کا مسودہ بل پیش کیا جارہا ہے۔ ملک ارجن کھرگے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے ستمبر 2023ء میں کہا تھا کہ خواتین تحفظات بل نافذ کرنے کیلئے حلقوں کی نئی حدبندی کی کوئی ضرورت نہیں مگر تب بہانہ بنایا گیا کہ مردم شماری ہوگی اس کی بنیاد پر حلقوں کی نئی حدبندی ہوگی تب جاکر خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں تحفظات دیئے جائیں گے۔ سرخیاں اس وقت لوٹ لی گئیں لیکن حقوق نہیں دیئے گئے۔ کپل سبل کا کہنا ہے کہ دستور میں جب 334A جوڑا گیا اس میں صاف صاف لکھا تھا کہ اس کا استعمال صرف اور صرف خواتین تحفظات کیلئے ہی ہوگا۔ کپل سبل کے مطابق ایک قانونی بات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ جو مردم شماری ہوتی تھی جس کے ذریعہ دستوری ترمیم 106 کی گئی 334A دستور میں جڑا اس میں یہ لکھا ہے کہ خواتین تحفظات نافذ ہوں گے۔ اب بات کرتے ہیں پارلیمنٹ کے سیٹوں کی تعداد کے بارے میں۔ اگر پارلیمانی نشستوں کی تعداد بڑھے گی تو جنوب کا اکثر کیا کم ہوجائے گا۔ دستور کی 131 ویں ترمیم کا مسودہ آتے ہی جنوبی ریاستوں میں غصہ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ آبادی کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی سیٹیں بڑھائی جارہی ہیں اگر ایسا کیا گیا تو لوک سبھا میں جنوبی ریاستوں شمالی ریاستوں کے آگے کمزور پڑھ جائیں گی۔ تاملناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن نے اعلان کردیا کہ 16 اپریل کو ریاست کے تمام گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے (اور ایسا ہی ہوا) عام مقامات پربھی سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے۔ تاملناڈو کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی بل کی مخالفت کررہا ہے اسے لیکر دہلی میں کئی اپوزیشن ارکان پارلیمان کا ایک اجلاس ہوا۔ ان تمام کا ماننا ہیکہ حکومت کو تیقن دینا پڑے گا کہ ریاستوں کے درمیان سیٹوں کا بٹوارہ جس بنیاد پر ہوتا آرہا ہے وہ برقرار رکھا جائے گا۔ جنوبی ریاستوں کی بے چینی اس لئے بھی بڑھ رہی ہے کہ اس بل کے ذریعہ لوک سبھا میں ان کی نمائندگی اور کم ہوجائے گی۔ راہول گاندھی اس بارے میں کچھ یوں اظہارخیال کرتے ہیں۔ ’’سچائی یہ ہیکہ اگر جو مودی جی چاہتے ہیں وہ ہوجائے تو جو چھوٹی ریاستیں ہیں جنوبی ریاستیں ہیں اور شمال مشرقی ریاستیں ہیں ان کی نمائندگی کم ہوجائے گی۔ ان کو خطرناک نقصان ہونے والا ہے اور میں اسے ANTI NATIONAL ACTIVITY مانتا ہو۔ ہمارا جو موقف ہے وہ بالکل واضح ہے۔ اگر آپ کو کرنا ہے تو او بی سی مردم شماری کا جو ڈیٹا ہے اس کی بنیاد پر کیجئے 2026ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کیجئے 2011ء مردم شماری کی بنیاد پر مت کیجئے کیونکہ اس میں او بی سی اور پسماندگہ طبقات کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے اور اگر آپ سچ مچ میں خواتین تحفظات بل پر عمل آوری کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس خواتین تحفظات بل پڑا ہوا ہے۔ اس پر آپ عمل آوری کیجئے ہم آپ کی پوری مدد کریں گے مگر بچھڑے طبقات جنوبی ریاستوں کے خلاف ہم آپ کو کام کرنے نہیں دیں گے۔ مودی جی میں سمجھتا ہوں کہ آپ ملک کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ موافق خواتین ہو میں جانتا ہوں کہ آپ ایپسٹن فائلز سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ 35 لاکھ فائلیں امریکہ میں بند پڑی ہیں۔ چابی ٹرمپ جی کے ہاتھ میں ہے اور آپ اس سے ڈرے ہوئے ہیں مگر یہ طریقہ نہیں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے مطابق نشستیں بڑھیں۔ آپ کے منشا کے مطابق حلقوں کی نئی حدبندی ہو اور پھر بچھڑے طبقات کو کچھ نہ ملے۔ ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ پرانا ڈیٹا نہیں چلے گا۔ 2026ء ذات پات پر مبنی مردم شماری کا ڈیٹا ہی چلے گا۔ ہم آپ کو بچھڑے طبقات سے چوری کرنے نہیں دیں گے۔ حصہ چوری بن کرو۔ بچھڑا طبقہ دلت آدی واسیوں کو ان کا حق دو۔ بل پیش کرنے سے پہلے سیاست گرما گئی ہے۔ جنوبی ریاستوں میں آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو چھوڑ کر سب ہی ریاستوں کے چیف منسٹرس اپنی حصہ داری کو لیکر پریشان ہیں۔ صرف جنوب ہی نہیں دوسری ریاستوں کی حصہ داری گھٹنے والی ہے۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی بھی اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ حکومت کی نئی حدبندی بل کو لیکر بحث شمال بمقابلہ جنوب کی ہوگئی ہے۔