مرکزنے عوامی شعور بیدار کیلئے سروے کا آغاز کیا ، 23 فروری تک اپنی رائے پیش کریں
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : کیا آپ اپنے گھر میں ایک مرتبہ فرائی کیے گئے خوردنی تیل ( کوکنگ آئیل ) کو دوبارہ بار بار استعمال کررہے ہیں ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ خوردنی تیل کا زیادہ استعمال صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے ؟ کیا آپ اپنے گھر میں اکثر تلی ہوئی چیزیں کھاتے ہیں ؟ مرکزی حکومت کی جانب سے عوام سے یہی سوالات کئے جارہے ہیں ۔ ملک میں خوردنی تیل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور تیل کی قلت کے تناظر میں پہلی مرتبہ عوام سے ایک خصوصی سروے کرتے ہوئے جامع تفصیلات اکٹھی کی جارہی ہیں ۔ مرکزی فینانس ڈپارٹمنٹ اور محکمہ شماریات نے اس سروے سے متعلق 24 سوالات کو اپنی ویب سائٹ پر رکھا ہے ۔ آن لائن میں رائے کا اظہار کرنے کے لیے 23 فروری تک مہلت دی گئی ہے ۔ اس ویب سائٹ میں انٹر ہونے کے بعد لاگن ٹو سبمیٹ سروے کا آپشن نظر آئے گا ۔ اس میں داخل ہونے کے بعد موبائل نمبر یا سوشیل میڈیا اکاونٹس سے لاگ آن کرسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی آپ کا نام ، موبائل نمبر ، دیگر شخصی تفصیلات کے ساتھ تیل کے استعمال کے بارے میں سوالات پوچھے جائیں گے ۔ چند سوالات کا ہاں یا نہیں میں اور دیگر سوال کے مخصوص جوابات ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرتے ہوئے آن لائن میں اندراج کرتے ہیں تو آپ سے حکومت کو معلومات حاصل ہوں گی ۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عوام سے خوردنی تیل کے استعمال پر سروے کیا جارہا ہے ۔ فوڈ کوالٹی ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے کہ سڑک کے کناروں پر کھانا تیار کرنے والے دکاندار اور چھوٹے چھوٹے ہوٹلس میں بار بار تیل کو اُبال کر استعمال کررہے ہیں ۔ ماہرین نے ایک بار استعمال کیے گئے خوردنی تیل کو چند گھنٹوں میں دوبارہ اُبال کر استعمال کرنے کے خلاف سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تیل کے استعمال سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ ایسے تیل کے استعمال کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے سروے کیا جارہا ہے تاکہ عوام سے براہ راست معلومات حاصل کی جاسکے ۔2