کانگریس امیدوارہ وجیہ ریڈی کی انتخابی مہم، نوجوانوں کی نمائندگی پر تیقن
حیدرآباد۔12۔نومبر(سیاست نیوز) نوجوانو ںکو کھیل کود کے لئے کھلے میدان کی فراہمی کے سلسلہ میں نوجوانوں کے وفد نے امیدوار کانگریس حلقہ اسمبلی خیریت آباد محترمہ پی وجیہ ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں متوجہ کروایا اور کہا کہ گذشتہ 15 برسوں سے وہ اپنے علاقہ میں کھیل کود کے میدان کے لئے نمائندگیاں کر رہے ہیں لیکن ان کی نمائندگیوں کو موجودہ رکن اسمبلی کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اسی لئے وہ اس مرتبہ کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقہ میں آئندہ نسل کو کھیل کود کی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کریں گے۔ محترمہ پی وجیہ ریڈی نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں ان کے والد کے دور میں جو ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں ان کو ہی اب تک دکھا جارہا ہے اور عوام نے جو عمارتیں تعمیر کی ہیں ان تعمیرات کو علاقہ کی ترقی سے تعبیر کیا جا رہاہے حالانکہ حکومت کی جانب سے حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کوئی توجہ نہیں دی جار ہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ انہوں نے اپنے حلقہ کے نوجوانوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں کھیل کود کے لئے میدان اور اسپورٹس کامپلکس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں دیگر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے علاوہ بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔کانگریسی امیدوارہ نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں گذشتہ 15برسوں کے دوران کوئی ایک نئے دواخانہ یا اسکول کا قیام عمل میں نہیں آیا اور نہ ہی خواتین کے لئے کوئی سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی بلکہ جو کھلی سرکاری اراضیات ہیں انہیں متنازعہ بناتے ہوئے قبضوں کی کوششیں کی گئی جنہیں عوام نے رکوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ نوجوانوں نے جوش و خروش کے ساتھ کانگریس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لینڈگرابرس مافیا‘ غنڈہ عناصر کے خلاف ترقی پسندی کے ساتھ اپنی ’بہن‘ خیریت آباد کی ’بیٹی‘ پی وجیہ ریڈی کا ساتھ دیں گے اور انہیں کامیاب بناتے ہوئے اسمبلی پہنچائیں گے تاکہ حلقہ خیریت آباد کے عوام کے مسائل کو ایوان میں حل کروایا جاسکے۔پی وجیہ ریڈی نے نوجوانوں کو اس بات کا تیقن دیا کہ وہ کامیاب ہونے کے بعد ان کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کریں گی اور ممکنہ حد تک مسائل کو ابتدائی ایک سال میں حل کرواتے ہوئے آئندہ 4برسوں کے دوران نئے ترقیاتی منصوبوں کو منظور کرواتے ہوئے ان کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔