درگاہ کی موقوفہ اراضی معاملت کے انکشاف سے وقف بورڈ میں ہلچل

   

: سیاست کی خبر کا اثر :

این او سی جعلی، ایس پی گدوال سے نمائندگی، بورڈ کے ملازم کا رشتہ دار اور دیگر شخص ملوث ہونے کا اشارہ
حیدرآباد۔یکم۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے این او سی کی اجرائی اور ’دھرانی پورٹل‘ پر اس این او سی کی بنیاد پر قابضین کے ناموں پر اوقافی جائیدادوں کی منتقلی کے سلسلہ میں ’روزنامہ سیاست ‘ کے انکشاف کے ساتھ ہی بورڈ میں ہلچل پیدا ہوگئی اور صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ شاہنواز قاسم کو معاملہ کی تحقیقات کے ساتھ مذکورہ جائیدادوں کے سروے نمبرات کو’لاک ‘ کروانے کے اقدامات کی ہدایت دی ۔ضلع جوگولامبا گدوال کے موضع سانگلا میں موجود درگاہ حضرت معروف پیرؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی کو پٹہ قرار دیتے ہوئے دوسروں کے ناموں پر منتقل کرنے کے علاوہ سروے نمبرات کو تبدیل کرتے ہوئے دھرانی پورٹل پر خانگی افراد کے نام چڑھائے جانے کے معاملہ کو منظرعام پر لائے جانے کے معاملہ میں وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بعض بدعنوان عہدیدار اور ملازمین ملوث ہیں کیونکہ درگاہ حضرت معروف پرؒ کے متولی کی جانب سے درگاہ کے تحت موقوفہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں نمائندگی کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں اب این او سی کے ذریعہ اس اراضی کو پٹہ لینڈ قرار دے دیا گیا ہے ۔ صدرنشین کی ہدایت کے بعد چیف ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ آفیسر وقف بورڈ نے سپرٹنڈنٹ آف پولیس گدوال مسٹر جے رنجن رتن کمار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وقف بورڈ کے این او سی کے نام پر جعلی دستاویز تیار کرتے ہوئے موقوفہ اراضی کو ہڑپنے کی کوشش کی گئی ہے اور وقف بورڈ کی جانب سے تحریری شکایت روانہ کی جار ہی ہے۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے دوران مزید اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ درگاہ کے سروے نمبرات 96,97اور98 کو بھی دوسروں کے نام پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروںنے وقف بورڈ سے موصول ہونے والے مکتوب کی تصدیق کے لئے ریاستی وقف بورڈ کو مطلع کیا تھا لیکن اس مکتوب کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل پایا ہے کیونکہ وقف بورڈ کے عہدیدارجو اس معاملت میں ملوث ہیں وہ اعلیٰ عہدیداروں تک یہ مکتوب پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس این او سی کی اجرائی کے سلسلہ میں اب تک جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں وقف بورڈ کے ملازم کے رشتہ دار کے علاوہ رین بازار میں رہنے والے ایک شخص کے متعلق تفصیلات موصول ہوئی ہیں جو کہ یہ این او سی جاری کروانے کے لئے 30لاکھ روپئے وصول کرچکا ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے اگر متولی کی شکایت پر فوری کاروائی کی جاتی تو کروڑہا روپئے مالیاتی اس اراضی کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا تھا لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی لاپرواہی اور لینڈ گرابرس کے ساتھ گٹھ جوڑ کے سبب موقوفہ اراضی منتقل ہوئی ہے ۔وقف بورڈ نے مذکورہ این اوسی کے معاملہ میں او۔ایس۔ڈی‘ انسپکٹر آڈیٹر وقف بورڈ گدوال کے علاوہ سرویئر وقف بورڈ کو گدوال روانہ کیا گیا ہے تاکہ جعلی این او سی معاملہ میں فوری طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کروائی جائے اور معاملہ کی تحقیقات کے اقدامات کئے جائیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ جاریہ سال ماہ جولائی کے علاوہ اگسٹ میں بھی ضلع کلکٹر کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے کہ ان جائیدادوں کی منتقلی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کئے جائیں لیکن اس کے باوجود دھرانی پورٹل پر ان جائیدادوں کو پٹہ لینڈ کے طور پر درج کردیا گیا ہے اور ان اراضیات کو ناقابل خرید و فروخت کے زمرہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے جو کہ بورڈکے عہدیداروں کی نااہلی کے مترادف ہے۔م