گندم، دالیں اور گوشت کے ساتھ ایک خاص ترکیب سے پکائی جانے والے حلیم کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس لذیذ ڈش کو سب سے پہلے عربوں نے پکانا شروع کیا جہاں اسے ہریسہ کے نام سے پکارا جاتا تھا ، عربوں نے ہریسہ کب پکانا شروع کیا اس بات کی تو کوئی تاریخ نہیں ملتی۔ عر ب سے یہ مزیدار ڈش بعد میں ایشیا کے کئی ممالک میں مشہور ہوئی برصغیر میں پہنچی جہاں اسے حلیم کا نام دیا گیا۔برصغیر میں ہریسہ مغلوں کے دور میں مقبول ہوا۔ مغلوں کے شاہی باورچیوں میں دنیا جہان کے باورچی شامل تھے جو اپنے علاقوں کے مقبول کھانے بادشاہوں کیلئے تیار کرتے اور اسی طرح مغلوں کے عرب باورچیوں کے ہاتھ کا پکا ہریسہ بھی مغلوں کے دستر خوان تک پہنچا اور اس میں معمولی ردوبدل کے بعد اسے حلیم کا نام دیا گیا۔برصغیر میں حلیم کے طرز پر پکائی جانے والی ایک اور ڈش جسے کھچڑا کہا جاتا ہے بھی بے حد مقبول ہے، حلیم اور کھچڑا کو پکانے کا تقریباً ایک ہی طریقہ ہے لیکن حلیم میں گوشت کو ہڈیوں سے نکال کو اتنا پکایا جاتا ہے کہ وہ ریشہ ریشہ ہوجائے اور دالوں کے ساتھ گھل جائے جبکہ کھچڑا میں گوشت کی بوٹیوں کو کیوب کی شکل میں رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اب حلیم کئی طریقوں سے پکائی جاتی ہے اور حلیم کیلئے دالوں کیساتھ گندم، جو وغیرہ کو ساری رات پانی میں بگھو کر رکھا جاتا ہے اور بعد میں اسے نمک والے پانی میں اتنا پکایا جاتا ہے کہ اناج گل جائے اور پھر گوشت کو حلیم کے خاص مسالے میں بھون کر اس میں اناج شامل کر دیا جاتا ہے اور پھر اسے 8 سے 10 گھنٹے ہلکی آنچ پر گھوٹے کیساتھ پکایا جاتا ہے۔حلیم کی غذائی صلاحیت پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ کھانا پروٹین، وٹامنز اور منرلز سے بھر پور کھانا ہے جو صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اور اس میں غذائی فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار شامل ہے جو نظام انہضام کو تقویت دینے کیساتھ ساتھ پیٹ کی صفائی کردیتی ہے۔