l برطانیہ ‘ جرمنی ‘ فرانس اور جاپان میں عوام کیلئے اڈوائزری جاری
l تین دن ‘ سات دن تا 10 دن کی غذاء ‘ دوا اور پانی کا ذخیرہ رکھنے پر زور
l سویڈن ‘ فن لینڈ اور ناروے میں بھی کچھ نقدی ساتھ رکھنے کے مشورے
l ہندوستان میں حالات بے قابو نہیں تاہم چوکسی ضروری : ماہرین کی رائے
l سائبر حملوں اور ڈیجیٹل بلیک آوٹ سے صورتحال بگڑنے کے اندیشے
نئی دہلی 2 نومبر ( ایجنسیز ) کیا دنیا معاشی انحطاط کی سمت بڑھ رہی ہے ؟ یا پھر دنیا میں اچانک کوئی بڑی تباہی ہوسکتی ہیں یا پھر دنیا کسی بڑے بحران کی سمت آگے بڑھ رہی ہے ؟ ۔ کیا اس کے اثرات ہندوستان پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے کئی گوشوں اور ہندوستان میں بھی اس طرح کے سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مغربی ممالک ‘ یوروپ اور چین کی معیشت کے کمزور ہونے سے ساری دنیا پر بحران کا خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ دنیا کے کچھ ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک میں عوام کو اپنے گھروں میں ہنگامی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ کچھ ممالک نے عوام کو تین تا سات دن اور کچھ ممالک نے 10 دن کی ضروریات پورا کرنے والا ساز و سامان گھروں میں جمع رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ عوام کو پانی کا بھی ذخیرہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ برطانیہ ‘ فرانس ‘ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں اس طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا دنیا میں معاشی انحطاط کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے یا پھر کسی طرح کا بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے اس طرح کی اڈوائزری جاری کئے جانے کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہونے لگا ہے کہ آیا اس عالمی ہلچل سے ہندوستان کو بھی فکرمند ہونا چاہئے یا نہیں ۔ ہندوستان میں بھی آئندہ دنوں میں مشکل صورتحال پیدا ہونے کے اندیشوں کے تعلق سے کچھ ویڈیوز سوشیل میڈیا پر گشت کرنے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے تقریبا 33 ممالک نے اپنے شہریوں کو ہنگامی تیاریاں کر رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ برطانیہ میں عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین تا 7 دن کی ضروریات کی تکمیل کیلئے غذائی سامان ‘ ادویات ‘ پانی جمع کر رکھیں اور ممکن ہو تو کچھ نقدی بھی اپنے ساتھ رکھی جائے ۔ اس مہم کو be ready کا نام دیا گیا ہے ۔ اسی طرح جاپان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے عوام کو تین تا سات دن کا ضروری سامان تیار رکھنے کو کہا ہے ۔ جرمنی میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں 10 دن کی ضروریات پوری کرنے والا سامان تیار رکھیں۔ اسی طرح سویڈن ‘ ناروے ‘ فن لینڈ جیسے ممالک نے بھی عوام کو ایک ہفتے کی ضروریات پر مشتمل سامان کا ذخیرہ رکھنے کو کہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آیا دنیا کسی جنگ کی سمت جا رہی ہے یا معاشی بحران کی کیفیت پیدا ہوگی ؟ ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ‘ مغربی اور یوروپی ممالک اور چین کی معیشت اب کمزور ہونے لگی ہے جس کی وجہ سے حالات ابتر ہونے لگے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ دنیا کو آج کئی بحرانوں کا سامنا بھی ہے ۔ ان میں سائبر حملے ‘ ڈیجیٹل بلیک آوٹ کے خطرات بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ڈیجیٹل بلیک آوٹ ہوتا ہے تو دنیا تھم سی جائے گی کیونکہ آج بینکنگ سے لے کر پانی اور برقی سربراہی جیسی ضروریات کی تکمیل بھی انٹرنیٹ سے ہو رہی ہے ۔ اگر انٹرنیٹ متاثر ہوتا ہے تو ساری خدمات ٹھپ ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح روس ۔ یوکرین جنگ ‘ مشرق وسطی بحران کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے کے اندیشے بھی ہیں۔ اچانک ہونے والی موسمی تبدیلیوں کے بھی اثرات دنیا پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ساری دنیا معاشی انحطاط کا شکار نہیں ہے بلکہ یوروپ ‘ امریکہ اور چین کی معیشت کمزور ہونے لگی ہے ۔ وہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور شرح سود میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے اور فیول ٹینکرس پر حملے ہوتے ہیں تو فیول اور تیل کی سپلائی متاثر ہوگی اور اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں فیول اور پٹرول کی قیمتوں کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو یہاں صورتحال اتنی سنگین نہیں سمجھی جا رہی ہے تاہم ماہرین نے عوام کو چوکس رہنے کا مشورہ ضرور دیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی آبادی خود معیشت کیلئے اہمیت کی حامل ہے اور یہاں طلب اور سپلائی کا توازٔ برقرار ہے ۔ سپلائی چین اگر متاثدر ہوتی ہے تو ہندوستان میں کچھ مشکلات ضرور پیش آسکتی ہیں کیونکہ ہندوستان اپنی تیل کی ضروریات کا 80 فیصد حصہ دوسرے ممالک سے حاصل کرتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ اور تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ کسی حد تک مہنگائی ہندوستان میں بھی محسوس ہونے لگی ہے اور آئندہ بھی اس میں اضافہ کے اندیشے موجود ہیں۔ ایسے میں عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ چوکسی ضرور برتیں تاہم ضرورت سے زیادہ اندیشوں کا شکار نہ ہوں۔