نئی دہلی ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف کلین سویپ شکست کے بعد اب ٹیم انڈیا کا اگلا چیلنج آسٹریلیا کا دورہ ہے۔ ٹیم انڈیا کو آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں کی ٹسٹ سیریزکھیلنی ہے جس کا پہلا میچ 22 نومبر سے شروع ہوگا۔ تاہم اس سیریز سے پہلے بڑا سوال یہ ہے کہ ٹیم انڈیا کی قیادت کی ذمہ داری کون سنبھالے گا کیونکہ روہت شرما کے لیے پہلے ٹسٹ میچ میں شرکت کرنا غیریقینی ہے۔ روہت ذاتی وجوہات کی وجہ سے پہلے ٹسٹ سے باہر رہ سکتے ہیں اور دوسرے ٹسٹ میں بھی ان کی واپسی غیریقینی صورت حا ل کا شکار ہے۔ جسپریت بمراہ کو آسٹریلیا کے دورے کے لیے نائب کپتان بنایا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ٹیم کی کمان سنبھالیں گے لیکن ٹیم انڈیا کے سابق کرکٹر محمد کیف کا ماننا ہے کہ ٹیم کی کمان رشبھ پنت کو سونپی جانی چاہیے۔ محمد کیف نے کہا کہ موجودہ ٹیم میں سے صرف رشبھ پنت ہی ٹسٹ کپتانی کے بڑے دعویدار ہیں۔ کیف کے مطابق، پنت ہی اس کے مستحق ہیں کیونکہ پنت جب بھی کھیلتے ہیں، وہ ہمیشہ ٹیم انڈیا کو ایک قدم آگے رکھتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ پنت کس نمبر پرکھیلنے کے لئے آتے ہیں، وہ ہمیشہ میچ جیتنے والی اننگز کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پنت میں ہر قسم کے حالات میں رنز بنانے کی صلاحیت ہے۔ پنت نے انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کی ٹرننگ پچ پر بھی رنز بنائے ہیں۔ کیف نے پنت کو مکمل بیٹر قراردیا۔ کیف نے رشبھ پنت کو ٹسٹ کپتان بنانے کی بات کی لیکن انہوں نے اس کی اصل وجہ نہیں بتائی۔ تاہم پنت سے پہلے بمراہ کپتان بننے کی دوڑ میں آگے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بمراہ کو اس دورے کے لیے نائب کپتان بھی بنایا گیا ہے۔ بمراہ نے ایک ٹسٹ میں ٹیم کی کمان بھی سنبھال لی ہے۔ اگر روہت پہلے ٹسٹ میں نہیں کھیلتے ہیں تو بمراہ کو کپتانی سنبھالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم کیف کچھ اور مانتے ہیں۔ کیف نے کہا کہ جب پنت اپنا آخری ٹسٹ میچ کھیلیں گے تو وہ لیجنڈ کے طور پر سبکدوش ہو جائیں گے۔ ان کی وکٹ کیپنگ میں زبردست بہتری آئی ہے۔ کیف نے کہا کہ جب تک پنت کریز پر تھے، نیوزی لینڈ کو سکون کی سانس نہیں مل رہی تھی۔ کیف کے مطابق اگر آپ مستقبل کے کپتان کی تلاش میں ہیں تو پنت سے بہترکوئی نہیں ہے۔علاوہ ازیں سنیل گواسکر نے بھی دورہ آسٹریلیا کیلئے نئے کپتان کی بات کہی ہے اور کہا کہ جب روہت پہلے ٹسٹ میں نہیں ہوں گے اور دوسرے ٹسٹ میں بھی ان کی واپسی یقینی نہیں ہے تو ہندوستان کو چاہئے کہ وہ ایسے کھلاڑی کو کپتان بنائے جو آسٹریلیا کے خلاف پوری سیریز میں ٹیم کی قیادت کرسکے جبکہ روہت کی سیریز کے درمیان واپسی ہوگی تو انہیں ایک کھلاڑی کے طور پر اپنا مقام لینا زیادہ بہتر ہوگا ۔گواسکر نے کہا کہ روہت کی مکمل سیریز میں عدم شرکت سے ٹیم کا توازن برقرار رکھنا مشکل ہوگا لہذا انہیں ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنا بہتر ہوگا۔