آئندہ چھ سال تک پانی کی قلت نہ ہونے کا امکان
حیدرآباد۔4۔نومبر۔(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں زیر زمین سطح آب میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور سال گذشتہ کے مقابلہ میں شہر میں زیر زمین سطح آب میں ہونے والے اضافہ سے ماہ اکٹوبر کے دوران ہونے والی بارشوں اور اس سے قبل ہوئی بارش کے سبب شہر کے بیشتر علاقوں بالخصوص مانصاحب ٹینک‘ ہمایوں نگر‘ بہادرپورہ‘ دارالشفاء‘ نامپلی ‘ نلہ کنٹہ ‘ اشوک نگر‘ سعید آباد‘ کلثوم پورہ ‘کاروان کے علاوہ چندرائن گٹہ میں زیر زمین سطح آب کا جائزہ لینے پر ان علاقو ںمیں موجود بورویل اور کنؤوں میں پانی کافی حد تک اوپر آچکا ہے۔ اکٹوبر 2021 میں علاقہ چندرائن گٹہ میں زیر زمین سطح آب 8.54میٹر ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اکٹوبر 2022 میں چندرائن گٹہ کے علاقہ میں زیر زمین سطح آب ایک میٹر سے بھی 0.09 پر آچکی ہے۔ اسی طرح مانصاحب ٹینک میں سال گذشتہ زیر زمین سطح آب 3.06 میٹر ریکارڈ کی گئی تھی لیکن جاریہ سال اس میں اضافہ کے بعد 1.81 میٹر ہوچکی ہے۔ ہمایوں نگر میں سال گذشتہ زیر زمین سطح آب 1.62میٹر ریکارڈ کی گئی تھی لیکن جاریہ سال یہ سطح آب 1.02 تک پہنچ چکی ہے۔ دارالشفاء علاقہ میں زیر زمین سطح آب سال گذشتہ 3.98ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اس سال اس میں زبردست اضافہ کے بعد 2.43ریکارڈ کی گئی ہے۔ دونوں شہروں کے بیشتر علاقوں میں جہاں زیر زمین سطح آب میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے وہ شہر میں آئندہ چند برسوں کے دوران پانی کی قلت کے خدشات کو دور کرنے میں کافی اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے علاوہ زیر زمین سطح آب پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق زیر زمین پانی کے استعمال کے رجحان میں ہونے والے اضافہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے لیکن گذشتہ ایک برس کے دوران شہر حیدرآباد کے علاقوں میں زیر زمین سطح آب میں ہونے والے اضافہ کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کے نمونوں کے حصول کے ذریعہ ان کی جانچ کے اقدامات کئے جار ہے ہیں تاکہ پانی کے نمونوں کی جانچ کے ذریعہ معیارکا جائزہ لیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے بیشتر رہائشی علاقوں میں جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ان علاقوں میں زیر زمین پانی کا معیار کافی حد تک بہتر ہے اور عہدیداروں کے مطابق زیر زمین پانی انتہائی شفاف اور قابل استعمال ہے۔م