دونوں شہروں کے پانچ اوقافی جائیدادوں کو ترقی دینے کیلئے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ

   

کتہ پیٹ مارکٹ کے میوہ فروشوں کو پہاڑی شریف کے قریب جگہ الاٹ کا مسئلہ دو ہفتوں کیلئے ملتوی، وقف بورڈ کے اجلاس میں فیصلے
حیدرآباد ۔ 23 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کا آج اجلاس منعقد ہوا، جس میں گذشتہ ایک برس سے زیرالتواء مسائل کو حل کرنے کے اقدامات یقینی بنائے گئے۔ صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خان کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، ملک معتصم خان، مولانا سید نثار حسین، حیدر آغا، مولانا سید ابوالفتح بندگی پاشاہ، رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین، رکن اسمبلی کوثر محی الدین، زیڈ ایچ جاوید ایڈوکیٹ موجود تھے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس جاری رہنے کی وجہ سے اسدالدین اویسی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے نامزد کردہ رکن شیخ یاسمین باشاہ بھی بارش کے سبب اجلاس میں شرکت کرنے سے قاصر رہی۔ کتہ پیٹ مارکٹ کے میوہ فروشوں کو پہاڑی شریف کے قریب جگہ تخصیص کرنے کے مسئلہ پر تفصیلی مشاورت کے بعد معاملے کو دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں تولیت کمیٹیوں کو منظوری کے علاوہ مساجد کی کمیٹیوں کو منظوری دینے کے اقدامات کئے گئے۔ صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خان نے بتایا کہ دونوں شہروں میں موجود پانچ اہم جائیدادوں کو ترقی دینے کیلئے کھلے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے سنگاریڈی میں منی حج ہاؤز کی تعمیر کے سلسلہ میں جگہ کی تبدیلی کے بعد منظوری دیئے جانے کے متعلق واقف کرایا۔ بورڈ کے اجلاس میں اراکین وقف بورڈ کے اضلاع کے دورہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کو بھی منظوری دی گئی۔ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ شاہنواز قاسم نے درگا حضرت بابا شرف الدین پہاڑی شریف کے تحت موجود اراضی کو ٹمریز کے حوالے کئے جانے سے متعلق تفصیلات سے بورڈ کے اراکین کو واقف کرایا۔ اجلاس کے دوران ارکان نے عدالتوں میں زیردوراں مقدمات، اسٹینڈنگ کونسل کے پیانل و دیگر امور کا جائزہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی کا جلد از جلد اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اندرون دو ہفتے زیردوران مقدمات اور اسٹینڈنگ کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین صابری اور مولانا سید ابوالفتح بندگی پاشاہ نے بے بنیاد الزامات پر درگاہوں و اوقافی اداروں کو ڈائرکٹ مینجمنٹ میں لئے جانے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کو چاہئے کہ الزامات ثابت ہونے کے بعد ہی اس طرح کی سخت کارروائی کی جائے۔ اوقافی اداروں کو راست انتظامیہ میں لئے جانے کے بعد ان کی نگرانی کیلئے عملہ کی عدم موجودگی سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ دن بھر جاری رہنے والے اجلاس کے دوران ایجنڈے میں شامل تمام امور پر اتفاق کے ساتھ فیصلہ کرلیا گیا۔ن