دونوں شہروں کے کمیونٹی ہالس کو وارڈ آفسیس میں تبدیل کرنے کے اقدامات

   

5 تا 15 لاکھ روپیوں کا بجٹ منظور ، جی ایچ ایم سی کا فیصلہ
حیدرآباد۔19۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ بلدی حدود میں موجود زائد از 60فیصد کمیونیٹی ہالس کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے وارڈ آفس میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان کمیونیٹی ہالس کو وارڈ آفس میں تبدیل کرنے اور انہیں دفتر کی شکل دینے کے لئے جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے 5تا15لاکھ روپئے کے بجٹ منظور کئے جا رہے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نچلی سطح پر عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے وارڈ واری اساس پر بلدی عہدیداروں کو دفاتر فراہم کرنے اور عوام کے مسائل کی یکسوئی کے لئے انتظامیہ کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے اقدامات کے طور پر کئے گئے فیصلہ کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ہر وارڈ میں بلدی دفاتر کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا ۔ جی ایچ ایم سی نے سرکاری و خانگی عمارتوں کے حصول کی کوششوں کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ بیشتر کمیونیٹی ہالس جو خالی ہیں ان کا استعمال کیا جا ئے اور ان میں وارڈ آفس کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے چندرائن گٹہ ‘ عیدی بازار‘ ناچارم‘ نامپلی ‘ اعظم پورہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کمیونیٹی ہالس کو دفاتر میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کمیونیٹی ہالس جو کہ شہر کے بیشتر سلم علاقوں سے قریب تعمیر کئے گئے ہیں ان کمیونیٹی ہالس میں غریب شہری اپنی چھوٹی تقاریب منعقد کیا کرتے تھے لیکن اب وارڈ آفس کے قیام کے بعد ان کمیونیٹی ہالس کا تقاریب کے لئے استعمال ممکن نہیں ہوگا ۔ شہر کے بعض علاقوں میں بلدیہ کے ان کمیونیٹی ہالس میں کھیل کود کی سرگرمیاں اور تربیت کے اقدامات بھی کئے جاتے تھے لیکن اب ان کمیونیٹی ہالس کو وارڈ آفس میں تبدیل کئے جانے کے سبب یہ بھی ممکن نہیں ہوپائے گا۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں 150 وارڈ دفاتر کے قیام کے فیصلہ کے بعد جن مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے ان پر کسی منتخبہ نمائندہ کی جانب سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان کمیونیٹی ہالس کو وارڈ دفاتر میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلہ میں بجٹ کی منظوری و اجرائی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے۔م