دھرانی پورٹل کے ذریعہ 26 لاکھ خرید و فروخت کے معاملات کی یکسوئی

   


وقف اور انڈومنٹ اراضیات کا تحفظ، پورٹل کے آغاز کو دو سال مکمل
حیدرآباد ۔3 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں دھرانی پورٹل کے آغاز کو دو سال مکمل ہوچکے ہیں اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ اراضی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے یہ پورٹل ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے ۔ دھرانی کے دو سال کی تکمیل پر حکومت کی جانب سے دو سالہ کارکردگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ 2 نومبر 2020 ء کو دھرانی پورٹل پر رجسٹریشن کا آغاز ہوا۔ عوام کی سہولت کیلئے یہ پورٹل مددگار ثابت ہوا ہے اور اراضی رجسٹریشن کے علاوہ دیگر متعلقہ امور کی بآسانی یکسوئی کے انتظامات ہیں۔ عوام کو ان کاموں کیلئے سب رجسٹرار کے دفاتر جانا پڑتا تھا لیکن اس زحمت سے چھٹکارا مل چکا ہے ۔ یہ سہولت ریاست میں 141 مقامات پر دستیاب ہیں۔ اراضیات کے رجسٹریشن کے آغاز سے عوام کو کافی سہولت ہوئی اور ریاست کے 574 منڈل ہیڈکوارٹرس پر عوام رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ اراضیات کے رجسٹریشن کے بعد میوٹیشن کی خدمات کے لئے ریونیو ریکارڈ کے حصول کی ضرورت پڑتی تھی لیکن میوٹیشن خدمات فوری طور پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ الیکٹرانک پٹہ دار پاس بک اندرون چند سکنڈ ایس ایم ایس کے ذریعہ عوام کو بھیجی جارہی ہیں۔ پٹہ دار پاس بک کی کاپی انتہائی محفوظ طریقہ سے تیار کی گئی جس میں 18 طریقہ سے ریکارڈ کو محفوظ بنایا گیا ہے ۔ پاس بک اندرون ایک ہفتہ پٹہ دار کے گھر پر پہنچائی جارہی ہے ۔ دھرانی پورٹل پر گزشتہ دو برسوں کے دوران 9.16 کروڑ ہٹس آئے ہیں اور 26 لاکھ سے زائد اراضی خرید و فروخت کے معاملات مکمل کئے گئے ۔ زرعی اراضیات کی خرید و فروخت کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 2.97 لاکھ کیسس میں جن کے رجسٹریشن ہوچکے تھے لیکن میوٹیشن باقی تھا، دھرانی پورٹل کی وجہ سے ان کی یکسوئی ہوئی ہے۔ پورٹل کے ذریعہ حکومت نے 3.16 لاکھ اراضی سے متعلق شکایات کی یکسوئی کی ۔ پوٹل کے ذریعہ 11.24 لاکھ اراضی کی فروخت کے معاملات مکمل کئے گئے ۔ 2.81 لاکھ گفٹ ڈیڈ کے رجسٹریشن اور 1.80 لاکھ وراثت کے حقوق جاری کئے گئے۔ حکومت کے دعویٰ کے مطابق دھرانی پورٹل کے سبب رجسٹریشن نظام پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ کسانوں کو اپنی اراضیات کے تحفظ کا یقین حاصل ہوا ہے ۔ پورٹل پر 1.54 لاکھ زرعی اراضیات جو 70 لاکھ پٹہ داروں کی ہیں، ان کی تفصیلات موجود ہیں۔ دھرانی کے تحت وقف اور انڈومنٹ کی جائیدادوں کو خودکار طریقہ سے مقفل کردیا گیا ہے جن کی خرید و فروخت نہیں کی جاسکتی۔ ملک کی دیگر ریاستیں دھرانی پورٹل کی تقلید کا منصوبہ بنارہی ہیں۔ر