دہلی شراب اسکام معاملہ، تحقیقات میں بنگال اور تلنگانہ نشانہ پر

   


دونوں ریاستوں کا جائزہ، سی بی آئی کے داخلہ پر امتناع کے باوجود منصوبہ بندی

حیدرآباد۔13۔نومبر(سیاست نیوز) شراب پالیسی میں ترمیم اور اس میں کی جانے والی دھاندلیو ںاور بدعنوانیوں کے سلسلہ میں جاری سی بی آئی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور سی بی آئی نے دہلی شراب اسکام معاملہ میں تحقیقات کو بنگال اور تلنگانہ میں وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ اور بنگال میں سی بی آئی کے داخلہ پر ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد امتناع کے باوجود سی بی آئی کی جانب سے شراب اسکام معاملہ میں دونوں ریاستوں کی پالیسی اور اس میں ملوث افراد کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کی منصوبہ بندی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ اب مرکزی ایجنسی سی بی آئی نے دہلی شراب اسکام معاملہ میں تحقیقات کو تیز کرتے ہوئے دونوں ریاستوں میں برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین ‘ عہدیداروں ‘ شراب کے تاجرین اور دیگر کے خلاف کاروائی کی راہیں ہموار کرنی شروع کردی ہیں۔شراب کی پالیسی کی تیاری کے معاملہ میں پرناڈ ریچرڈ کی گرفتاری کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ دہلی شراب پالیسی کی تیاری کے ساتھ ساتھ بنگال اور تلنگانہ کی پالیسی کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہوچکا ہے ۔سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق دہلی کے علاوہ دونوں ریاستوں میں شراب پالیسی اسکام معاملہ میں ملوث افراد موجود ہیں اور ان کی گرفتاری اور ان سے تفتیش کے بعد ہی حقائق منظر عام پر لائے جاسکتے ہیں اسی لئے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مشترکہ کاروائیوں کے ذریعہ سیاسی قائدین ‘ شراب کے ٹھوک تاجرین ‘ درمیانی افراد ‘ ریاستی حکومت کے عہدیداروں کے علاوہ ایسے تاجرین اور صلاح کار جو ارباب اقتدار سے قربت رکھتے ہیں ان پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ شراب اسکام میں کئی سیاسی قائدین کے نام منظر عام پر آئے ہیں جن میں ارباب اقتدار سے قربت رکھنے والوںکے علاوہ عہدیداروں اور صنعت کاروں و سرمایہ کاروں کے نام شامل ہیں۔ دہلی شراب اسکام کی تحقیقات تلنگانہ اور بنگال پہنچنے کی صورت میں برسراقتدار جماعت کے کئی قائدین کی گرفتاریوں کے علاوہ عہدیداروں کے خلاف کاروائی متوقع ہے۔م