ابھیشیک راؤ کی گرفتاری کے بعد مشتبہ افراد کی پریشانیوں میں اضافہ
حیدرآباد۔ 12 اکتوبر (سیاست نیوز) دہلی لکر اسکام میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی سرگرمیاں اب دہلی منتقل ہوگئی ہیں۔ سی بی آئی کی کارروائی اور ابھیشیک راؤ کی گرفتاری کے بعد تلنگانہ کے سیاسی قائدین کسی نہ کسی بہانے دہلی پہنچ رہے ہیں۔ ابھیشیک راؤ نے سی بی آئی تحویل میں حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں۔ ابھیشیک راؤ کی گرفتاری کے بعد مشتبہ افراد کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا۔ دہلی میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ریاست کے سیاسی قائدین کے کردار اور دہلی لکر اسکام میں ان کے رول پر شبہات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ دہلی لکر اسکام کی تازہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہلی لکر پالیسی کے تیار ہونے سے قبل ہی دھاندلیوں کو انجام دیا گیا ۔ پالیسی کے عمل میں آنے سے قبل ہی کیا لین دین اور بدعنوانی کو انجام دیا گیا تھا۔؟ اس زاویہ سے تحقیقات جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد کے بوئن پلی علاقہ میں اس تعلق سے اجلاس منعقد ہوئے تھے اور رقمی لین دین و ہیرا پھیری کی انجام دہی بھی بوئن پلی میں ہی طے کی گئی تھی۔ سی بی آئی نے دہلی لکر اسکام میں کل 15 افراد کیخلاف اگست میں مقدمہ درج کیا تھا، لیکن ان 15 افراد کی فہرست میں ابھیشیک راؤ کا نام نہیں تھا لیکن رقمی لین دین اور مبینہ ہیرا پھیری کے معاملہ میں ابھیشیک کا رول سامنے آیا۔ ابھیشیک راؤ پر الزام ہے کہ اس نے کئی اجلاس حیدرآباد کے علاوہ دہلی اور ممبئی میں منعقد کئے ۔ ان اجلاسوں اور میٹنگس میں ضروری اقدامات رقمی ادائیگی اور ضروری فنڈس کو دنیش ارورا کے ذریعہ وجئے نائر تک حوالے کے ذریعہ رقم کو ابھیشیک راؤ نے پہنچا۔ نومبر 2021 تا جولائی 2022 تک مختلف مراحل میں رقمی لین کے شواہد سی بی آئی کو ملے اور انڈوسیریٹ کے ایم ڈی سمیر مہندرا کے ذریعہ حاصل رقم ابھیشیک کے کھاتے میں جمع ہوئی۔ گرفتاری کے وقت ابھیشیک اس رقم کے متعلق کوئی جواب نہیں دے سکا۔ گرفتاری سے قبل سی بی آئی نے ابھیشیک سے 5 دنوں تک پوچھ تاچھ کی اور جیسے ہی اس مقدمہ میں ابھیشیک کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت سی بی آئی کے ہاتھ لگے ابھیشیک کو نوٹس جاری کی گئی اور 3 دنوں تک پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ ع